.
معرکۂ حق سے عالمی ثالثی تک

7 مئی 2026 کو بلوچستان کے سینٹر آف ایکسیلینس برائے انسداد دہشت گردی و انتہا پسندی میں پاکستان کی تاریخی فتح کے حوالے سے خصوصی نشست منعقد کی گئی
اس نشست میں ممتاز رہنماؤں، پالیسی سازوں اور ماہرین و محققین نے شرکت کی اس سے اندازہ کریں کہ یہ اجلاس محض ایک علمی نشست نہیں تھا، بلکہ اس قومی عزم کا اعلان تھا کہ پاکستان کا ہر مکتبہ فکر اور ہر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والا شخص پاکستان کے دفاع کے حوالے سے کس قدر حساس ہے اور دفاع کے لیے کس قدر متحد ہے
یہی وہ پاکستان کے متعلق حساسیت ہے جس نے دفاع سے لیکر خارجہ پالیسی /سویلین و ملٹری ڈپلومیسی سے وہ کارنامے انجام دییے کہ” پاکستان کی درخواست پر” کا جملہ دنیا میں ٹاپ ٹرینڈ بن گیا اور دنیا حیران رہ گئ پاکستان اس ملک کی جنگ کا ثالث ہے جو اب تک دنیا میں جنگوں کا ثالث رہا. امریکی ایوانِ نمائندگان میں پاکستان کو باقاعدہ غیر جانبدار اور بہترین ثالث قرار دیکر قرارداد بھی پیش کی گئی اور ایران نے بھی پاکستان کو اپنا اکلوتا ثالث قرار دیا.
اس اجلاس میں تفصیلی طور پر ان معجزہ نما حقائق اور پہلگام سے بنیان المرصوص تک کا احاطہ کیا گیا کہ کیسے پاکستان کی معرکہ حق میں فتح نے کس طرح ملٹری ڈپلومیسی کا روپ دھارا اور کیسے یہ ملٹری ڈپلومیسی خارجہ محاز پر پاکستان کی عظمت کا ستون بن گئ
ڈاکٹر عصمت اللہ خان، ڈپٹی کوآرڈینیشن آفیسر، نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے عسکری فتوحات کو موجودہ سفارتی کامیابیوں کی بنیاد قرار دیتے ہوے کہا پاکستان کی جنگ بقا سے شروع ہوئی تھی اور اس کی پالیسی اور دانش مندی دیکھیے کہ وہ اب عالمی تنازعات میں ثالثی کر رہا ہے۔پاکستان ایک مستحکم اور طاقتور قوت ہے جو خطے میں توازن قائم رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ امریکا-ایران تنازع میں ثالثی کا کردار پاکستان کو عالمی امن اور معاشی استحکام کا محافظ ثابت کرتا ہے
وزیر منصوبہ بندی و ترقی بلوچستان، میر ظہور احمد بلیڈی نے “معرکۂ حق کو پاکستان کا طاقت کا ثبوت قرار دیتے ہوے کہا دنیا ہمارا دفاع دیکھ چکی، پاکستان کی خودمختاری کو کوئی طاقت توڑ نہیں سکتی۔ یہ فتح صرف دشمن کے خلاف نہیں تھی، یہ فتح جارحیت کے خلاف تھی۔
انہوں نے مرکز کی علمی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسی نشستیں نوجوانوں کو حقائق پاکستان کو درپیش مسائل ہماری ان مسائل کے خلاف طاقت کا شعور، مثبت سوچ اور قومی یکجہتی کو فروغ دیتی ہیں۔
چیف کوآرڈینیشن آفیسر ڈاکٹر دوست محمد بریچ نے مرکز کو تحقیق اور پالیسی سازی کا قلعہ قرار دیا اور کہا:
“پاکستان نے دفاع سے خود کو منوایا اور اس سے آگے بڑھ کر اپنی پالیسی اور دانش مندی سے سفارتی اثر و رسوخ کا مقام حاصل کیا ہے۔ یہ کامیابی ماہرین اور حکومتی اہلکاروں کے مشترکہ منصوبہ بندی اور ہم آہنگی کا نتیجہ ہے۔”
بابر خان یوسف زئی، معاون برائے میڈیا امور وزیر داخلہ بلوچستان نے معرکۂ حق کو آزادی کے بعد قومی تاریخ کا سب سے بڑا موڑ قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ واقعہ عسکری قیادت کے عزم اور پاک فوج کی حکمتِ عملی کا ثبوت ہے، جس نے پاکستان کو عالمی سطح پر ایک معزز مقام دلایا جس نے پاکستان کو عالمی سطح پر ایک معزز مقام دلایا۔ اور یہ حقیقت ہے کہ پاکستان نے اج سے قبل دنیا میں کبھی خود کو اتنا معتبر نہیں پایا
اسکالر و محقق محترمہ سعدیہ زہرہ نے اس میں اظہار خیال کرتے ہوے کہا:
“یہ باطل کے خلاف سچائی کی جیت تھی، اتحاد کی تصویر تھی۔ یہ وہ لمحہ تھا جب عوام اور حکومت ایک ہو کر دنیا کو پیغام دے رہے تھے کہ پاکستان جھوٹ نہیں، مکالمہ اور امن کی سیاست کرتا ہے۔” پاکستان جارح نہیں لیکن دفاع کرنا جانتا ہے
بےشک ایسی نشستیں نوجوانوں کو ملکی مسائل اور اس کی پالیسی کے متعلق شعور دینے کے لیے بےحد ضروری ہیں۔




