.
بنوں: فتح خیل پولیس اسٹیشن پرخوارج کا حملہ

فتح خیل پولیس اسٹیشن پر بنوں میں ہونے والا دہشتگرد حملہ فتنہ الخوارج سے منسلک گل بہادر گروہ نے کیا ہے، جس کے بارے میں مستند شواہد اور زمینی حقائق یہ ثابت کرتے ہیں کہ اس کی قیادت اور منظم نیٹ ورک افغانستان کی سرزمین سے مسلسل سرگرم عمل ہے۔ یہ گروہ افغان علاقے میں موجود محفوظ ٹھکانوں سے کارروائیاں کر رہا ہے، جہاں بعض عناصر کی سرپرستی اور سہولت کاری اسے حاصل ہے۔ یہ واقعہ کسی اتفاقی یا غیر منظم کارروائی کے بجائے ایک باقاعدہ منصوبہ بند اور بیرونی معاونت یافتہ دہشتگرد حملہ ہے۔
یہ حملہ پاکستان کی “معرکۂ حق” اور “غضب للحق” میں نمایاں کامیابیوں کے بعد بھارت اور اس کے ماسٹر پراکسی افغانستان کی بڑھتی ہوئی مایوسی، دباؤ اور شدید اضطراب کی واضح عکاسی کرتا ہے۔ ان کامیابیوں کے بعد خطے میں سرگرم دہشتگرد عناصر کی کارروائیوں میں اضافہ ایک مربوط اور منظم پراکسی حکمت عملی کی طرف اشارہ کرتا ہے، جس کا مقصد پاکستان کے اندر بدامنی پیدا کرنا ہے۔
اس تناظر میں یہ حقیقت بھی نمایاں ہے کہ پاکستان کی انسدادِ دہشتگردی کارروائیوں نے ان گروہوں کو شدید دباؤ اور اشتعال میں مبتلا کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں بھارت اور اس کے پراکسی نیٹ ورکس افغانستان میں موجود عناصر کے ذریعے پاکستان کے اندر عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششیں تیز کر رہے ہیں۔
چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز نے 10 مئی کو خطاب میں واضح طور پر کہا کہ بھارت، اپنی براہِ راست عسکری ناکامی کے بعد، اب افغانستان میں موجود دہشتگرد عناصر کو منظم طور پر سپورٹ کر رہا ہے تاکہ پاکستان کے اندر سیکیورٹی صورتحال کو خراب کیا جا سکے۔ عسکری قیادت کے مطابق یہ عمل خطے میں جاری پراکسی جنگ کا حصہ ہے، جس کا مقصد پاکستان کو غیر مستحکم کرنا ہے۔
اس واقعے کے فوری بعد پاکستان نے افغان ناظم الامور کو وزارتِ خارجہ میں طلب کر کے شدید اور واضح سفارتی احتجاج ریکارڈ کرایا۔ پاکستان نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ 9 مئی 2026 کے حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں موجود عناصر نے کی، اور افغان سرزمین کا دہشتگردی کے لیے استعمال کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ پاکستان نے واضح کیا کہ وہ اپنی قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اور ضروری اقدام اٹھانے کا مکمل حق محفوظ رکھتا ہے۔
واقعے کے بعد بنوں میں عوامی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا، جہاں شہریوں نے دہشتگرد حملے کی بھرپور مذمت کی اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ عوامی مؤقف واضح ہے کہ ایسے عناصر نہ صرف امن دشمن ہیں بلکہ بیرونی ایجنڈوں کے تحت ملک میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ یہ خوارج مکمل طور پر غیر منطقی، انتہا پسند اور خونریزی پر مبنی سوچ کے حامل ہیں، جو کمزور افراد کو گمراہ کر کے خودکش حملوں جیسے سنگین اور حرام افعال کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ان کا واحد مقصد تباہی اور خون بہانا ہے، جسے مذہبی، اخلاقی اور سماجی ہر سطح پر سختی سے مسترد کیا جاتا ہے۔
مجموعی طور پر پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک اس کی جدوجہد پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گی، اور ریاست، عوام اور سیکیورٹی اداروں کا اتحاد ان تمام بیرونی و اندرونی خطرات کے مقابلے میں پہلے سے زیادہ مضبوط اور فیصلہ کن ہے۔
بنوں: فتح خیل پولیس اسٹیشن پرخوارج کا حملہ
.






