مستونگ پُل دھماکہ اور بلوچستان میں دہشت گرد تنظیموں کا عوام دشمن کردار

Mastung Pul Dhamaka…

مستونگ میں کوئٹہ تفتان شاہراہ پر پُل کو دھماکہ خیز مواد سے اڑانے کی کوشش اور چار گاڑیوں کو نذرِ آتش کرنا کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں۔ یہ اُس منظم، ہدف بند دہشت گردی کا تازہ باب ہے جس کا ہدف بلوچستان کا بلوچ عوام ہے، وہی عوام جن کے نام پر یہ تنظیمیں جھوٹے دعوے کرتی ہیں۔
بی ایل اے نے صرف اگست 2024 میں بلوچستان کے 39 مختلف مقامات پر ہم آہنگ حملوں کی ذمہ داری قبول کی، جن میں پولیس اسٹیشن، فوجی قافلے اور اہم شاہراہوں پر انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا۔
جنوری 2025 میں بی ایل اے کے عناصر نے خضدار ضلع کے ضہری قصبے پر تقریباً آٹھ گھنٹے تک قبضہ برقرار رکھا اور لیویز فورس اسٹیشن، نادرا دفتر، میونسپل کمیٹی آفس اور ایک بینک سمیت متعدد سرکاری عمارتوں کو آگ لگا دی۔ یعنی یہ دہشت گرد نہ صرف سکیورٹی اداروں کو بلکہ عام شہریوں کے دفاتر اور ان کی جمع پونجی کو بھی نشانہ بناتے ہیں۔
بی ایل اے کے آپریشن “ہیروف 2” کے تحت ہدف بند حکمتِ عملی میں پولیس اسٹیشن، سرکاری عمارات، بینک اور حکومتی اہلکار شامل رہے۔ تنظیم نے مئی اور اگست میں دو ڈپٹی کمشنروں کو قتل کرنے اور اگست میں ایک اسسٹنٹ کمشنر کے اغوا کی ذمہ داری بھی قبول کی۔ یعنی سرکاری ملازم — جن میں اکثریت بلوچ افسران کی تھی — اپنے ہی علاقے میں محفوظ نہیں۔
جنوری 2026 کے حملوں کے دوران مستونگ میں جیل پر حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں کم از کم 30 قیدی فرار ہوگئے۔ کلات میں پولیس اسٹیشنوں اور بینکوں پر حملوں سے مقامی دکانیں بند ہوگئیں۔ گوادر اور پسنی میں مسافر بسوں سے مسافروں کو اغوا کرنے کی کوشش کی گئی۔ خضدار میں بی ایل اے نے سات سکیورٹی اہلکاروں کو یرغمال بنانے کا دعویٰ کیا۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کے مطابق 2025 میں بلوچستان میں کم از کم 254 دہشت گرد حملے ہوئے جو 2024 کے مقابلے میں 26 فیصد زیادہ تھے، جن کے نتیجے میں 400 سے زائد اموات ہوئیں۔ بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ سرفراز بگٹی کے مطابق 2025 میں سکیورٹی آپریشنز کے دوران 700 سے زائد دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے اپنی ایک رپورٹ میں ان دہشت گرد تنظیموں پر اساتذہ کو قتل کرنے، دھمکیاں دینے اور ہراساں کرنے کا لکھا ہے۔ وہ تنظیمیں جو “بلوچ حقوق” کا نعرہ لگاتی ہیں، بلوچ بچوں کو پڑھانے والے معلمین کو بھی نشانہ بناتی ہیں۔
اور آج مستونگ میں پُل کو اڑانے کی کوشش اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ ایک پُل جو مسافروں کو، تاجروں کو، مریضوں کو اور طالب علموں کو سفر کی سہولت دیتا ہے — اسے اڑانا “آزادی” نہیں، بلوچ عوام کی روز مرہ زندگی کا گلا گھونٹنا ہے۔ پاکستانی ریاست واضح کرتی ہے کہ بنیادی ڈھانچے، تعلیمی اداروں، بینکوں اور سرکاری دفاتر کو نشانہ بنانا دراصل اُن سہولیات کا خاتمہ ہے جو صرف بلوچ عوام استعمال کرتے ہیں۔ یہ دہشت گردی بلوچ عوام کی نمائندہ نہیں بلکہ ان کی دشمن ہے۔

KhabarKada

KhabarKada

Keep in touch with our news

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *