بلوچستان کے عوام کے پاس مسکرانے کی ایک بڑی وجہ موجود ہے
بلوچستان کے عوام کے پاس مسکرانے کی ایک بڑی وجہ موجود ہے
بلوچستان کے عوام کے پاس مسکرانے کی ایک بڑی وجہ موجود ہے۔ صوبائی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے مسلسل تیسرا بجٹ پیش کر دیا ہے۔ یہ صوبے کے لیے ایک انتہائی اہم موقع ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت استحکام اور ترقی کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ اس بجٹ کا کل حجم ریکارڈ 1089 ارب روپے تک پہنچنے کی امید ہے۔ یہ بجٹ اس لحاظ سے بھی خاص ہے کہ یہ سرپلس بھی ہے اور ٹیکس فری بھی۔ اس کا مطلب ہے کہ حکومت کا عوام پر کوئی نیا ٹیکس لگانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ یہ عام شہریوں اور کاروباری اداروں کے لیے ایک بہت بڑا ریلیف ہے۔ یہ معاشی سرگرمیوں کو فروغ دے گا اور لوگوں کو اپنے روزمرہ کے اخراجات کا انتظام کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔
حکومت نے تعلیم کو اولین ترجیح دے کر ایک جرات مندانہ فیصلہ کیا ہے۔ آنے والے مالی سال کے لیے تعلیم کے شعبے کے لیے 144 ارب روپے سے زائد کی ریکارڈ رقم تجویز کی گئی ہے، جو کہ صوبے کی تاریخ میں تعلیم کا سب سے بڑا بجٹ ہے۔ یہ فنڈز اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کی حالت بہتر بنانے کے لیے استعمال کیے جائیں گے، جس کا مقصد صوبے کے ہیومن ریسورس کو مضبوط بنانا ہے۔ تعلیم میں سرمایہ کاری دراصل بلوچستان کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے، جس سے کل کے لیے ایک ہنرمند افرادی قوت تیار کرنے میں مدد ملے گی۔
روزنامہ ڈان (Dawn) کی ایک حالیہ بجٹ رپورٹ کے مطابق “بلوچستان کا مالی سال 2026-27 کا بجٹ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب صوبہ شدید مالیاتی دباؤ کا شکار ہے۔ بجٹ میں ٹیکسوں کی عدم موجودگی اور تعلیم کے لیے ریکارڈ 144 ارب روپے مختص کرنا ایک خوش آئند قدم ہے، تاہم اصل چیلنج ہمیشہ کی طرح ان فنڈز کی شفاف اور بروقت عملدرآمد (Execution) اور گورننس کو بہتر بنانا ہوگا تاکہ اس کے ثمرات عام آدمی تک پہنچ سکیں۔”
مہنگائی کے موجودہ دور میں سرکاری ملازمین کو اکثر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ بجٹ ان کے تحفظات کو دور کرتا ہے۔ تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کی توقع ہے، اور یہ اضافہ وفاقی حکومت کی تنخواہوں میں اضافے کی پالیسی کے عین مطابق ہوگا۔ اس اقدام کا مقصد سرکاری شعبے کے ملازمین کو انتہائی ضروری ریلیف فراہم کرنا ہے تاکہ وہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کا مقابلہ کر سکیں۔ یہ اس بات کی واضح علامت ہے کہ حکومت کو اپنے ملازمین کی فلاح و بہبود کا احساس ہے۔
وفاقی حکومت نے بھی بلوچستان کے لیے بھرپور تعاون کا مظاہرہ کیا ہے۔ نیشنل اکانومک کونسل نے 3,669 ارب روپے کے قومی ترقیاتی فنڈز کی منظوری دی ہے۔ دیگر صوبوں کے ترقیاتی بجٹ میں کٹوتیوں کے برعکس، بلوچستان کا ترقیاتی بجٹ 206 ارب روپے پر برقرار رکھا گیا ہے۔ یہ فیصلہ بلوچستان کی ترقی کے لیے وفاقی حکومت کے پختہ عزم کو ظاہر کرتا ہے اور صوبے کے مستقبل پر ایک بڑے اعتماد کا اظہار ہے۔ بجٹ میں اہم منصوبوں کے لیے نمایاں فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ کچھی کینال کے لیے 1.37 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے، جبکہ گروک اسٹوریج ڈیم کے لیے مزید 1.46 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ پٹ فیڈر کینال کی ری ماڈلنگ کے لیے بھی 3 ارب روپے فراہم کیے جائیں گے۔ N-25 ہائی وے حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، جسے گزشتہ سال 100 ارب روپے ملے تھے اور یہ آگے بھی توجہ کا مرکز رہے گی۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکانومکس (PIDE) کا اس حوالے سے کہنا ہے: “بلوچستان جیسے وسیع رقبے اور بکھری ہوئی آبادی والے صوبے میں کچھی کینال، گروک ڈیم اور N-25 ہائی وے جیسے بنیادی ڈھانچے (Infrastructure) کے منصوبوں پر فوکس کرنا ایک سٹریٹجک ضرورت ہے۔ یہ بنیادی ڈھانچہ نہ صرف صوبائی رابطوں کو مضبوط کرے گا بلکہ زراعت اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دے کر مقامی سطح پر روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔”
اس بجٹ کے اعداد و شمار بالکل واضح ہیں؛ حکومت مالیاتی نظم و ضبط پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے اور عوامی بہبود کے لیے وقف ہے۔ بجٹ کو ٹیکس فری رکھ کر حکومت براہِ راست عوام کی جیبوں میں پیسہ واپس پہنچا رہی ہے۔ تعلیم اور ملازمین کی تنخواہوں کو ترجیح دے کر حکومت دراصل ہیومن کیپیٹل میں سرمایہ کاری کر رہی ہے۔
اس حوالے سے معاشی ماہرین کا تجزیہ ہے کہ: “کسی بھی ترقی پذیر خطے کی پائیدار ترقی کے لیے ہیومن کیپیٹل (Human Capital) یعنی تعلیم اور صحت پر سرمایہ کاری بنیادی شرط ہوتی ہے۔ بلوچستان حکومت کی جانب سے تعلیم کے بجٹ میں تاریخی اضافہ اور وفاق کی طرف سے ترقیاتی بجٹ کو برقرار رکھنا صوبے میں طویل مدتی معاشی استحکام کی جانب ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔”
یہ طرزِ حکمرانی کا ایک متوازن طریقہ کار ہے، جس کا مقصد سب کے لیے پائیدار ترقی کو ممکن بنانا ہے۔ یہ بجٹ واقعی ایک عوام دوست بجٹ ہے، جو عام آدمی پر نئے ٹیکسوں کا بوجھ نہیں ڈالتا، بلکہ اس کے بجائے ترقی اور ریلیف پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ یہ لوگوں کی بنیادی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔ بلوچستان کے رہائشیوں کے لیے یہ بجٹ امید کی ایک کرن ہے۔ یہ ایک ایسے مستقبل کا اشارہ ہے جہاں حکومت ان کی خوشحالی میں برابر کی شراکت دار ہے، اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت ان کے چیلنجوں کو سمجھتی ہے اور انہیں حل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ یہ بلوچستان کے لیے ایک نئی صبح ہے۔