Aon Naqvi

Aon Naqvi

Currently serving as the Content Head at Khabarkada. With over 10 years of experience in electronic media, I have worked at different designations in electronic media. As media professional, I specialize in current affairs, digital content strategy.

راجی مُچی کیس اور بلوچستان میں ریاستی رِٹ: احتجاج، تشدد اور قانون کی سرحد

بلوچستان کو اس کے دشمنوں نے کئی دہائیوں سے سیاسی…

بلوچستان کو اس کے دشمنوں نے کئی دہائیوں سے سیاسی، سماجی اور سیکیورٹی مسائل سے دو چار کر رکھا ہے۔ ایسا ماحول بنایا جاتا ہے جہاں احتجاج اور عوامی آواز کا بہانہ بنا کر آئینِ پاکستان کو پامال کیا جاتا رہا ہے اور بلوچستان کے شہریوں کو مالی، جانی، اور معاشرتی نقصان پہنچایا جاتا رہا ہے، اور جب ان سے سوال کیا جاتا ہے تو یہ عناصر یہ جواز پیش کرتے ہیں کہ احتجاج ہمارا آئینی حق ہے۔ اب ذرا سوچیں، ایک طرف یہ لوگ آئین کو نہیں مانتے۔ جب احتجاج کو انتشار میں تبدیل کرتے ہیں اور آئینی حدود عبور کر کے تشدد، ریاستی اداروں پر حملوں اور عوامی نظم کو تباہ کرنے لگے تو ریاست کے لیے مداخلت ناگزیر ہو جاتی ہے۔

گوادر میں ہونے والا راجی مُچی واقعہ اسی بحث کا مرکز بن چکا ہے۔ ابتدا میں جسے ایک عوامی اجتماع اور سیاسی احتجاج کے طور پر پیش کیا گیا، وقت گزرنے کے ساتھ وہ تصادم اور بدامنی میں تبدیل ہو گیا۔ سیکیورٹی اہلکاروں پر حملے کیے گئے، سرکاری رٹ کو چیلنج کیا گیا، اور نتیجتاً قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ ان واقعات میں ایف سی کے سپاہی شبیر بلوچ نے فرض کی ادائیگی کے دوران شہادت پائی جبکہ متعدد اہلکار زخمی ہوئے۔ یہ واقعہ صرف ایک احتجاجی تنازع نہیں تھا بلکہ ریاستی عملداری کے لیے ایک بڑا امتحان تھا۔

پُرامن احتجاج اور پرتشدد ہجوم کے درمیان فرق واضح ہونا چاہیے۔ جمہوری احتجاج مکالمے، قانون کے احترام اور سیاسی عمل کے ذریعے اپنے مطالبات پیش کرتا ہے، جبکہ تشدد قانون کو چیلنج کرتا ہے۔ جب ریاستی اہلکاروں پر حملے ہوں، سڑکیں بند کی جائیں، عوامی زندگی مفلوج ہو، اور خوف و ہراس پھیلایا جائے تو احتجاج اپنی اخلاقی اور قانونی حیثیت کھو دیتا ہے۔

راجی مُچی کیس میں انسدادِ دہشت گردی عدالت کا فیصلہ اسی تناظر میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ عدالت نے واضح پیغام دیا کہ ریاست ایسے عناصر کو برداشت نہیں کرے گی جو احتجاج کی آڑ میں تشدد اور بدامنی کو فروغ دیں۔ اور یہ بات بھی جاننی چاہیے کہ یہ مقدمہ دو سال چلا ہے۔ فیصلے کے مطابق انسدادِ دہشت گردی عدالت نمبر 1، کوئٹہ نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور سبغت اللہ شاہ کو ایک غیر قانونی اجتماع میں شرکت کا مرتکب قرار دیا، جس کے نتیجے میں جولائی 2024 میں گوادر میں پیش آنے والے واقعے کے دوران ایف سی کے سپاہی شبیر احمد کے قتل کا وقوعہ پیش آیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ایف سی اہلکاروں پر حملہ دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے، لہٰذا دونوں ملزمان کو پاکستان پینل کوڈ اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت مجرم ٹھہرایا گیا۔

عدالت نے دونوں ملزمان کو قتل کے جرم میں عمر قید اور دہشت گردی کے جرم میں بھی عمر قید کی سزا سنائی، جو بیک وقت چلیں گی۔ اس کے علاوہ مقتول کے ورثا کو معاوضہ ادا کرنے اور 2 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم بھی دیا گیا۔

یہ فیصلہ صرف چند افراد کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بلوچستان میں ریاستی رِٹ کی بحالی اور قانون کی بالادستی کا اظہار ہے۔ اگر ریاست قانون نافذ کرنے میں کمزوری دکھائے تو اس کا اثر پورے معاشرے پر پڑتا ہے۔ عوامی اعتماد مجروح ہوتا ہے، سرمایہ کاری متاثر ہوتی ہے، اور انتشار پسند عناصر کو مزید جگہ ملتی ہے۔

سپاہی شبیر بلوچ کی شہادت اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ سیکیورٹی اہلکار صرف وردی پوش اہلکار نہیں بلکہ اسی معاشرے کے بیٹے ہوتے ہیں۔ بلوچستان میں خدمات انجام دینے والے کئی اہلکار خود بلوچ نوجوان ہیں جو امن اور استحکام کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔ ان کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ریاستی ادارے صرف طاقت کی علامت نہیں بلکہ عوامی تحفظ کی ذمہ داری بھی اٹھاتے ہیں۔

یہ امر بھی اہم ہے کہ سیکیورٹی فورسز پر حملوں کو معمول کا حصہ نہیں بننے دیا جا سکتا۔ دنیا کے کسی بھی ملک میں ریاستی اداروں پر منظم حملے قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھے جاتے ہیں۔ اگر ایسے واقعات کو سیاسی اور انسانی حقوق کا جواز دے دیا جائے تو معاشرے میں قانون کی گرفت کمزور پڑ جاتی ہے اور مٹھی بھر ہجوم کی طاقت قانون کی جگہ لینے کی کوشش کرتی ہے۔

بلوچستان کی عوام امن، ترقی اور استحکام چاہتے ہیں۔ اگر بدامنی اور تشدد کا ماحول پیدا کیا جائے تو سب سے زیادہ نقصان عام بلوچ شہری کو ہی پہنچتا ہے۔ تعلیم، روزگار، تجارت اور ترقی سب متاثر ہوتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ سیاسی اختلافات کو آئینی دائرے میں رکھا جائے اور احتجاج کو تشدد میں تبدیل نہ ہونے دیا جائے۔

ریاست کی ذمہ داری صرف طاقت کا استعمال نہیں بلکہ انصاف، مکالمے اور عوامی اعتماد کو برقرار رکھنا بھی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی تسلیم کرنا ہوگی کہ قانون کی عملداری کے بغیر نہ جمہوریت محفوظ رہ سکتی ہے اور نہ ہی معاشرہ۔ راجی مُچی کیس کا فیصلہ اسی اصول کی یاد دہانی ہے کہ احتجاج کا حق موجود ہے، مگر تشدد کی اجازت کسی کو نہیں دی جا سکتی۔ بلوچستان کا مستقبل امن، قانون اور آئینی سیاست سے وابستہ ہے، نہ کہ تصادم اور انتشار سے۔

Aon Naqvi

Aon Naqvi

Currently serving as the Content Head at Khabarkada. With over 10 years of experience in electronic media, I have worked at different designations in electronic media. As media professional, I specialize in current affairs, digital content strategy.
Aon Naqvi

Aon Naqvi

Currently serving as the Content Head at Khabarkada. With over 10 years of experience in electronic media, I have worked at different designations in electronic media. As media professional, I specialize in current affairs, digital content strategy.
Keep in touch with our news

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *