Aon Naqvi

Aon Naqvi

Currently serving as the Content Head at Khabarkada. With over 10 years of experience in electronic media, I have worked at different designations in electronic media. As media professional, I specialize in current affairs, digital content strategy.

کیا بی بی سی اردو کی پاکستان سے متعلق رپورٹنگ غیرجانبدار ہے؟ صحافتی اصولوں، ادارتی معیار اور عوامی اعتماد کا جائزہ

صحافت کا بنیادی مقصد عوام کو درست، متوازن اور قابلِ اعتماد معلومات فراہم کرنا ہے۔ کسی بھی معتبر میڈیا ادارے …

صحافت کا بنیادی مقصد عوام کو درست، متوازن اور قابلِ اعتماد معلومات فراہم کرنا ہے۔ کسی بھی معتبر میڈیا ادارے کی ساکھ اس بات پر قائم ہوتی ہے کہ وہ حقائق کو غیرجانبدار انداز میں پیش کرے، تمام متعلقہ فریقوں کو مساوی نمائندگی دے اور خبر کو ذاتی، سیاسی یا نظریاتی جھکاؤ سے بالاتر رکھے۔ یہی اصول بین الاقوامی نشریاتی اداروں پر بھی یکساں طور پر لاگو ہوتے ہیں۔ ایسے میں اگر کسی ادارے کی رپورٹنگ پر جانبداری یا غیرمتوازن کوریج کے حوالے سے سوالات اٹھائے جائیں تو ان کا جائزہ لینا صحافتی عمل کا ایک فطری حصہ ہے۔

حالیہ برسوں میں بی بی سی اردو کی پاکستان، خصوصاً بلوچستان اور آزاد جموں و کشمیر سے متعلق بعض رپورٹس پر مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید سامنے آئی ہے۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ بعض حساس معاملات میں رپورٹنگ کے دوران اختلافی آوازوں کو زیادہ نمایاں جگہ دی گئی، جبکہ ریاستی اداروں، عدالتی کارروائیوں یا متاثرین کے مؤقف کو نسبتاً کم اہمیت ملی۔ دوسری جانب بی بی سی ہمیشہ اس بات پر زور دیتا آیا ہے کہ اس کی ادارتی پالیسی غیرجانبداری، درستگی اور عوامی مفاد پر مبنی ہے۔ یہی اختلاف اس بحث کو جنم دیتا ہے کہ آیا موجودہ تنقید صحافتی اصولوں کی روشنی میں قابلِ غور ہے یا نہیں۔

صحافتی غیرجانبداری کیوں اہم ہے؟

برطانیہ کے میڈیا ریگولیٹر آفکام (Ofcom) کے براڈکاسٹنگ کوڈ کے مطابق خبروں میں Due Accuracy (درستگی) اور Due Impartiality (مناسب غیرجانبداری) بنیادی تقاضے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر خبر میں تمام فریقوں کو برابر وقت دیا جائے، بلکہ یہ کہ کسی بھی متنازع معاملے میں مختلف مؤقف کو مناسب تناظر کے ساتھ پیش کیا جائے تاکہ ناظرین یا قارئین خود اپنی رائے قائم کر سکیں۔

بین الاقوامی صحافتی اداروں کے لیے یہ ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کیونکہ ان کی رپورٹس عالمی سطح پر رائے عامہ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

آزاد کشمیر کی رپورٹنگ پر اعتراضات

آزاد جموں و کشمیر میں سڑکوں کی بندش سے متعلق بی بی سی اردو کی ایک رپورٹ کے بعد پاکستانی حکام نے اس کی تردید کرتے ہوئے باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرانے کا دعویٰ کیا۔ ایسی صورت میں صحافتی اصول یہی تقاضا کرتے ہیں کہ اگر کسی خبر پر متعلقہ ادارے سنجیدہ اعتراضات اٹھائیں تو خبر کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے، مزید وضاحت دی جائے یا اگر کوئی غلطی ہو تو اس کی اصلاح بھی کی جائے۔

اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ حکومتی مؤقف کو صرف رسمی انداز میں شامل کرنے کے بجائے اس کا مناسب تناظر بھی فراہم کیا جائے تاکہ ناظرین مکمل تصویر دیکھ سکیں۔

بلوچستان: ایک پیچیدہ صحافتی ماحول

بلوچستان کئی دہائیوں سے سیکیورٹی، شورش، دہشت گردی، جیسے پیچیدہ مسائل کا مرکز رہا ہے۔ ایسے ماحول میں رپورٹنگ کرنا ہر صحافی کے لیے ایک مشکل ذمہ داری ہوتی ہے۔

صحافتی توازن کا تقاضا ہے کہ رپورٹنگ میں صرف ایک فریق کا مؤقف نمایاں نہ ہو بلکہ ریاستی اداروں، عدالتی ریکارڈ، سیکیورٹی فورسز، متاثرہ شہریوں، دہشت گردی کے متاثرین اور مقامی آبادی سمیت تمام متعلقہ آوازوں کو مناسب جگہ دی جائے۔ اگر کسی ایک زاویۂ نظر کو زیادہ اہمیت دی جائے تو رپورٹنگ کی غیرجانبداری پر سوال اٹھنا ایک فطری ردعمل ہو سکتا ہے۔

تنازعات کی رپورٹنگ کے عالمی اصول

Reuters Institute for the Study of Journalism سمیت متعدد صحافتی ادارے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ تنازعات اور مسلح کشیدگی سے متعلق رپورٹنگ میں سیاق و سباق، متعدد ذرائع اور مختلف فریقوں کے مؤقف کو شامل کرنا ضروری ہے۔

ایسی رپورٹنگ میں الفاظ کا انتخاب، اعداد و شمار کی تصدیق، قانونی حقائق اور زمینی صورتحال سب برابر اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ طرف کی کوریج عوامی اعتماد کو متاثر کر سکتی ہے۔

بلوچستان سے متعلق شخصیات کی کوریج

بلوچستان سے متعلق سرگرم شخصیات، جن میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ بھی شامل ہیں، کی میڈیا کوریج پر بھی مختلف آراء سامنے آئی ہیں۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ بعض رپورٹس میں ان کے مؤقف کو نمایاں جگہ ملی، جبکہ عدالتی کارروائی، استغاثہ کے دلائل یا دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں کے بیانات کو اتنی ہی اہمیت نہیں دی گئی۔

دوسری جانب بعض تجزیہ کار اس مؤقف سے اختلاف کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ میڈیا کا کام مختلف آوازوں کو سامنے لانا بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے معاملات میں متوازن رپورٹنگ اور مکمل تناظر فراہم کرنا صحافتی اعتبار سے اہم سمجھا جاتا ہے۔

اصطلاحات کا انتخاب کیوں اہم ہے؟

صحافت میں استعمال ہونے والے الفاظ صرف زبان کا حصہ نہیں بلکہ عوامی تاثر پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ “دہشت گرد”، “عسکریت پسند”، “مسلح گروہ” یا “علیحدگی پسند” جیسی اصطلاحات مختلف قانونی، سیاسی اور صحافتی مفاہیم رکھتی ہیں۔

اسی لیے Associated Press Stylebook سمیت متعدد عالمی ادارتی رہنما اصول اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایسی اصطلاحات سوچ سمجھ کر استعمال کی جائیں اور جہاں ممکن ہو خبر کو زیادہ سے زیادہ قابلِ تصدیق حقائق کی بنیاد پر بیان کیا جائے۔

ادارتی شفافیت اور عوامی اعتماد

میڈیا اداروں کے بارے میں وقتاً فوقتاً مالی دباؤ، ادارتی فیصلوں یا ڈیجیٹل ٹریفک بڑھانے کی حکمت عملی سے متعلق مختلف دعوے بھی سامنے آتے رہتے ہیں۔ اگرچہ ایسے دعووں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہوتی ہے، تاہم کسی بھی میڈیا ادارے کے لیے ادارتی شفافیت برقرار رکھنا عوامی اعتماد کے لیے نہایت اہم ہے۔

اسی طرح یہ سوال بھی قابلِ غور ہے کہ آیا مختلف خطوں کے لیے ایک ہی ادارہ مختلف ادارتی معیارات اختیار کرتا ہے یا نہیں۔ اگر ایسا تاثر موجود ہو تو اس کی وضاحت بھی ادارے کی ذمہ داری بن جاتی ہے۔

آزادیِ صحافت اور احتساب

یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ کسی میڈیا ادارے پر تنقید کا مطلب آزادیِ صحافت کی مخالفت نہیں۔ ایک آزاد میڈیا جمہوری معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے، لیکن آزادی کے ساتھ احتساب بھی اتنا ہی ضروری ہے۔

اگر کسی ادارے کی رپورٹنگ پر جانبداری کے الزامات سامنے آتے ہیں تو ان کا بہترین جواب شفاف ادارتی پالیسی، حقائق پر مبنی رپورٹنگ، غلطیوں کی بروقت اصلاح اور تمام متعلقہ فریقوں کی متوازن نمائندگی کے ذریعے دیا جا سکتا ہے۔

نتیجہ

میڈیا پر عوامی اعتماد کسی بھی ادارے کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں معتبر صحافتی ادارے اپنی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے مسلسل خود احتسابی، ادارتی اصلاحات اور شفافیت کو ترجیح دیتے ہیں۔

بی بی سی اردو سمیت ہر میڈیا ادارے کے لیے بھی یہی اصول اہم ہیں۔ اگر اس کی رپورٹنگ پر سوالات اٹھتے ہیں تو ان کا مثبت جواب مزید شفافیت، متوازن صحافت، قابلِ تصدیق معلومات اور تمام متعلقہ فریقوں کو مساوی نمائندگی فراہم کرنے میں ہی ہے۔ بالآخر صحافت کی اصل طاقت کسی ایک بیانیے کی حمایت نہیں بلکہ عوام کو مکمل، درست اور متوازن معلومات فراہم کرنے میں ہے، تاکہ وہ خود حقائق کی بنیاد پر اپنی رائے قائم کر سکیں۔

Aon Naqvi

Aon Naqvi

Currently serving as the Content Head at Khabarkada. With over 10 years of experience in electronic media, I have worked at different designations in electronic media. As media professional, I specialize in current affairs, digital content strategy.
Aon Naqvi

Aon Naqvi

Currently serving as the Content Head at Khabarkada. With over 10 years of experience in electronic media, I have worked at different designations in electronic media. As media professional, I specialize in current affairs, digital content strategy.
Keep in touch with our news

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *