
کوئٹہ میں کی جانے والی ایک پریس کانفرنس نے دہشت گرد تنظیم بی ایل اے (BLA) اور اس کی سرپرستی کرنے والے امن دشمن عناصر کا مکر و فریب ایک بار پھر دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران باقاعدہ ثبوتوں اور حقائق کے ساتھ بتایا گیا کہ کس طرح معصوم اور کم عمر بچوں اور بچیوں کے جذبات سے کھیل کر انہیں دہشت گردی اور خودکش حملوں جیسے خوفناک راستوں پر دھکیلا جا رہا ہے۔
یہ کہانی صرف ایک خاندان کی نہیں بلکہ ان تمام متاثرہ گھرانوں کی عکاس ہے جن کے ہنستے مسکراتے آشیانے اس فتنہ انگیزی اور پروپیگنڈے کی نذر ہو چکے ہیں۔
پروپیگنڈا، جبر اور مکر: معصوم بچیوں کو دام میں لانے کا طریقہ کار
پریس کانفرنس کے دوران سولہ سالہ زینب اور اس کی بارہ سالہ کزن فاطمہ کے المناک واقعے کے حقائق سامنے لائے گئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ گروہ کس طرح محرومیوں اور جھوٹے بیانیے کو ڈھال بنا کر ذہن سازی کرتا ہے:
- خاندانوں پر مظالم: زینب کا تعلق جنوبی بلوچستان سے ہے جس کے 8 سے 10 قریبی رشتہ داروں کو مختلف اوقات میں بی ایل اے ہی کے دہشت گردوں نے قتل کیا۔
- شوہر کا انٹیک اور قتل: 16 سال کی عمر میں زینب کی شادی ‘سیف’ نامی ایک پرامن شہری سے ہوئی۔ مقامی کمانڈر نے سیف کا موبائل نمبر حاصل کر کے اسے اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی۔ سیف کے انکار پر دہشت گردوں نے اسے بے دردی سے قتل کر دیا اور لاش و موبائل فون گھر پہنچا دیا۔
- جھوٹا بیانیہ اور گمراہی: شوہر کے قتل کے بعد کمانڈر نے زینب سے رابطہ کیا اور اپنے ہی کیے گئے جرم کا ملبہ اداروں پر ڈالتے ہوئے اسے شوہر کے انتقام کے نام پر ورغلا لیا۔
- کم عمر فاطمہ کی شمولیت: اس تمام صورتحال میں 12 سالہ فاطمہ، جس کے والد کو بھی بی ایل اے نے قتل کیا تھا، اس کا ذہن بھی اداروں کے خلاف بھڑکا کر دونوں بچیوں کو خودکش حملوں کے لیے آمادہ کر لیا گیا۔
کال کوٹھڑی، تشدد اور خفیہ اداروں کا کامیاب آپریشن
بی ایل اے کے شکنجے میں آنے کے بعد دونوں کم عمر بچیوں کو جن حالات سے گزرنا پڑا، وہ اس تنظیم کے درندانہ رویے کی واضح دلیل ہے:
- 40 دن کی قیدِ تنہائی: بچیوں کو تقریباً 40 دن تک ایک خفیہ مقام کی کال کوٹھڑی میں محبوس رکھا گیا۔ جب انہوں نے کمانڈر سے ملنے کا تقاضا کیا تو یہ کہہ کر ٹال دیا گیا کہ کمانڈر ہمسایہ ملک کے دورے پر ہے۔
- جسمانی تشدد: قید کے دوران بچیوں کی نگرانی کرنے والے عناصر کی جانب سے ان پر باقاعدہ تشدد کیا جاتا رہا۔
- بازیابی کا آپریشن: جب دہشت گردوں کا ایک گروہ ان بچیوں کو کسی دوسرے مقام پر منتقل کرنے کے لیے ایک پارٹی کے حوالے کر رہا تھا، تو حساس اداروں نے بروقت اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے دونوں معصوم بچیوں کو محفوظ طریقے سے برآمد کروا لیا۔
حاصلِ کلام
اس واقعے اور سیکیورٹی اداروں کی کارروائی سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ بلوچستان میں امن دشمن عناصر اپنے ذاتی مفادات کے لیے بچوں اور خواتین کے مستقبل کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔ معصوم شہریوں، خاص طور پر والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے بچوں کی آگاہی اور ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں تاکہ کسی بھی معصوم کو اس قسم کے مکر و فریب کا شکار ہونے سے بچایا جا سکے۔




