
)ویب ڈیسک ( پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کی جانب سے پشتونوں کی نام نہاد “جبرا گمشدگیوں” کے حوالے سے سوشل میڈیا پر مہم اور بیانات درحقیقت پاکستان کے خلاف بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی ’را‘ (R&AW) کے ایجنڈے کو پروان چڑھانے اور انسانی حقوق کی آر میں قوم پرستی کے جذبات بھڑکانے کی کوشش ہے۔
سیکیورٹی تجزیہ کاروں اور دفاعی ماہرین کے مطابق، خود کو حقوق کی تحریک قرار دینے والی اس تنظیم کے روابط اب افغان طالبان اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP) کے دہشت گردانہ نیٹ ورکس سے ثابت ہو چکے ہیں۔
‘را’ فنڈنگ اور لیکڈ آڈیو کا انکشاف
پی ٹی ایم کی جانب سے گمشدگیوں کا من گھڑت بیانیہ ایک پرانی اور ری سائیکل شدہ مہم کا حصہ ہے۔ سامنے آنے والے حقائق اور لیکڈ آڈیوز نے ثابت کیا ہے کہ منظور پشتین اور اس کے ساتھی بھارتی انٹیلی جنس کے احکامات اور فنڈنگ پر عمل پیرا ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد پشتون برادری کو گمراہ کر کے ملک میں نسلی تقسیم پیدا کرنا اور پاکستان کو مستحکم ہونے سے ہے۔
11 ہزار پاؤنڈ کا بھارتی منی ٹریل
تحقیقات کے مطابق پی ٹی ایم کے ردعمل اور مظاہروں کی پشت پناہی بھارتی فنڈنگ سے کی جا رہی ہے۔ شاہد کاکڑ کو برطانیہ اور بیرون ملک پاکستان مخالف احتجاجی مظاہرے منظم کرنے کے لیے بھارتی بینک کھاتوں سے 11,000 پاؤنڈز منتقل کیے گئے۔ یہ منی ٹریل ثابت کرتا ہے کہ پی ٹی ایم کا نام نہاد “احساسِ محرومی” صرف پیسہ کمانے اور غیر ملکی آقاوں کو خوش کرنے کا ذریعہ ہے۔
ٹی ٹی پی اور افغان طالبان سے رابطوں کے ثبوت
پی ٹی ایم کے انسانی حقوق کے دعوے اس وقت دم توڑ جاتے ہیں جب ان کی دہشت گرد تنظیموں سے قربت کا جائزہ لیا جائے:
- خالد زدران کی کتاب کا انکشاف: افغان طالبان کے ترجمان خالد زدران نے اپنی شائع کردہ کتاب میں منظور پشتین اور پی ٹی ایم قیادت کے ساتھ طالبان کے باضابطہ اور خفیہ عملی رابطوں کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔
- نور ولی محسود کا اعتراف: ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود نے اپنی کتاب “انقلاب محسود“ میں کھلے عام منظور پشتین کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ “منظور کے مقاصد اور ٹی ٹی پی کے مقاصد ایک ہی ہیں”۔
ہزاروں پشتونوں کے قاتل دہشت گردوں کی طرف سے کھلی حمایت اور پشت پناہی پی ٹی ایم کا اصل چہرہ اور مقصد واضح کرتی ہے۔
ٹی ٹی پی کے مظالم پر پراسرار خاموشی
پی ٹی ایم کا رویہ اور خود ساختہ انصاف اس وقت بے نقاب ہوتا ہے جب وہ ٹی ٹی پی کی جانب سے شہید اور بے گھر کیے جانے والے ہزاروں پشتونوں کے معاملے پر مکمل خاموشی اختیار کر لیتی ہے۔ یہ انتخابی اور یکطرفہ بیانیہ ’را‘ کے احکامات کا پابند ہے تاکہ پاکستان کے اداروں کو نشانہ بنایا جا سکے اور اصل دہشت گردوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
قانون اور عدالتی نظام کا راستہ
پاکستان کا آئین اور عدالتی نظام ہر شہری کو اپنے تحفظ اور شکایات کے ازالے کی مکمل آزادی دیتا ہے۔ اگر پی ٹی ایم کے پاس کوئی واقعی ثبوت موجود ہیں تو انہیں پریس کانفرنسز یا بین الاقوامی پروپیگنڈے کے بجائے ملکی عدالتوں میں پیش کیا جائے۔ لیکن پی ٹی ایم کا پاکستان کے قانونی نظام کو بائی پاس کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کے پاس کوئی معتبر ثبوت نہیں اور یہ تمام الزامات صرف عالمی سطح پر ملک کو بدنام کرنے کے لیے گھڑے گئے ہیں۔




