پی ٹی ایم کا ’جبرًا گمشدگیوں‘ کا بیانیہ: غیر ملکی فنڈنگ پر مبنی پروپیگنڈا بے نقاب

Listen to this article Ready to play
00:00 --:--
Voice is generated privately by your browser. No audio file is downloaded.

)ویب ڈیسک ( پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کی جانب سے پشتونوں کی نام نہاد “جبرا گمشدگیوں” کے حوالے سے سوشل میڈیا پر مہم اور بیانات درحقیقت پاکستان کے خلاف بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی ’را‘ (R&AW) کے ایجنڈے کو پروان چڑھانے اور انسانی حقوق کی آر میں قوم پرستی کے جذبات بھڑکانے کی کوشش ہے۔

سیکیورٹی تجزیہ کاروں اور دفاعی ماہرین کے مطابق، خود کو حقوق کی تحریک قرار دینے والی اس تنظیم کے روابط اب افغان طالبان اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP) کے دہشت گردانہ نیٹ ورکس سے ثابت ہو چکے ہیں۔

را’ فنڈنگ اور لیکڈ آڈیو کا انکشاف

پی ٹی ایم کی جانب سے گمشدگیوں کا من گھڑت بیانیہ ایک پرانی اور ری سائیکل شدہ مہم کا حصہ ہے۔ سامنے آنے والے حقائق اور لیکڈ آڈیوز نے ثابت کیا ہے کہ منظور پشتین اور اس کے ساتھی بھارتی انٹیلی جنس کے احکامات اور فنڈنگ پر عمل پیرا ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد پشتون برادری کو گمراہ کر کے ملک میں نسلی تقسیم پیدا کرنا اور پاکستان کو مستحکم ہونے سے ہے۔

11 ہزار پاؤنڈ کا بھارتی منی ٹریل

تحقیقات کے مطابق پی ٹی ایم کے ردعمل اور مظاہروں کی پشت پناہی بھارتی فنڈنگ سے کی جا رہی ہے۔ شاہد کاکڑ کو برطانیہ اور بیرون ملک پاکستان مخالف احتجاجی مظاہرے منظم کرنے کے لیے بھارتی بینک کھاتوں سے 11,000 پاؤنڈز منتقل کیے گئے۔ یہ منی ٹریل ثابت کرتا ہے کہ پی ٹی ایم کا نام نہاد “احساسِ محرومی” صرف پیسہ کمانے اور غیر ملکی آقاوں کو خوش کرنے کا ذریعہ ہے۔

ٹی ٹی پی اور افغان طالبان سے رابطوں کے ثبوت

پی ٹی ایم کے انسانی حقوق کے دعوے اس وقت دم توڑ جاتے ہیں جب ان کی دہشت گرد تنظیموں سے قربت کا جائزہ لیا جائے:

  • خالد زدران کی کتاب کا انکشاف: افغان طالبان کے ترجمان خالد زدران نے اپنی شائع کردہ کتاب میں منظور پشتین اور پی ٹی ایم قیادت کے ساتھ طالبان کے باضابطہ اور خفیہ عملی رابطوں کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔
  • نور ولی محسود کا اعتراف: ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود نے اپنی کتاب انقلاب محسود میں کھلے عام منظور پشتین کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ “منظور کے مقاصد اور ٹی ٹی پی کے مقاصد ایک ہی ہیں”۔

ہزاروں پشتونوں کے قاتل دہشت گردوں کی طرف سے کھلی حمایت اور پشت پناہی پی ٹی ایم کا اصل چہرہ اور مقصد واضح کرتی ہے۔

ٹی ٹی پی کے مظالم پر پراسرار خاموشی

پی ٹی ایم کا رویہ اور خود ساختہ انصاف اس وقت بے نقاب ہوتا ہے جب وہ ٹی ٹی پی کی جانب سے شہید اور بے گھر کیے جانے والے ہزاروں پشتونوں کے معاملے پر مکمل خاموشی اختیار کر لیتی ہے۔ یہ انتخابی اور یکطرفہ بیانیہ ’را‘ کے احکامات کا پابند ہے تاکہ پاکستان کے اداروں کو نشانہ بنایا جا سکے اور اصل دہشت گردوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

قانون اور عدالتی نظام کا راستہ

پاکستان کا آئین اور عدالتی نظام ہر شہری کو اپنے تحفظ اور شکایات کے ازالے کی مکمل آزادی دیتا ہے۔ اگر پی ٹی ایم کے پاس کوئی واقعی ثبوت موجود ہیں تو انہیں پریس کانفرنسز یا بین الاقوامی پروپیگنڈے کے بجائے ملکی عدالتوں میں پیش کیا جائے۔ لیکن پی ٹی ایم کا پاکستان کے قانونی نظام کو بائی پاس کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کے پاس کوئی معتبر ثبوت نہیں اور یہ تمام الزامات صرف عالمی سطح پر ملک کو بدنام کرنے کے لیے گھڑے گئے ہیں۔

Disclaimer: The opinions expressed in this article are solely those of the author. They do not represent the views, beliefs, or policies of KhabarKada.

🖨 Print📄 PDF

Related

Latest

پشین دہشت گردانہ حملہ: بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کا گٹھ جوڑ بے نقاب، بلوچستان کو غیر مستحکم کرنے کی ناکام کوشش

ویب ڈیسک( کوئٹہ-ژوب ہائی وے پر واقع زیارت کراس (پشین) میں سیکیورٹی فورسز نے “فتنہ الخوارج” (TTP) اور “فتنہ ہندوستان” (BLA) کا مشترکہ حملہ ناکام بنا دیا ہے۔ سیکیورٹی اہلکاروں کی فوری اور بھرپور جوابی کارروائی کے بعد دہشت گرد بھاری نقصان اٹھا کر ملحقہ پہاڑوں کی طرف فرار ہو گئے۔

Read More »

ٹی ٹی پی کا زیارت کراس حملے کا دعویٰ؛ 6 ایف سی اہلکار اور 4 کسٹمز آفیشلز شہید

ویب ڈیسک( بلوچستان کے علاقے زیارت کراس پر سیکورٹی اور سرکاری تنصیبات پر کالعدم ٹی ٹی پی (خوارج) کے رات گئے کیے گئے حملے میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کے 6 اہلکار اور کسٹمز کے 4 آفیشلز جامِ شہادت نوش کر گئے، جبکہ متعدد ایف سی اہلکار شدید زخمی ہوئے ہیں۔

Read More »

Five Years of Taliban Rule: Failed Governance, Rights Restrictions and Regional Insecurity

A major conference held in Islamabad to mark five years of Taliban rule in Afghanistan delivered a blunt assessment of the regime’s record. The conference was organized by the Institute of Regional Studies in collaboration with South Asia Times, bringing together policy experts, think-tank analysts, Afghanistan specialists, policymakers, diplomats, and national and international observers. The conference highlighted that the Taliban have failed to build an inclusive system of governance, uphold basic rights, or meet the security and economic expectations of Afghans and the region.

Read More »