
)ویب ڈیسک( کوئٹہ-ژوب ہائی وے پر واقع زیارت کراس (پشین) میں سیکیورٹی فورسز نے “فتنہ الخوارج” (TTP) اور “فتنہ ہندوستان” (BLA) کا مشترکہ حملہ ناکام بنا دیا ہے۔ سیکیورٹی اہلکاروں کی فوری اور بھرپور جوابی کارروائی کے بعد دہشت گرد بھاری نقصان اٹھا کر ملحقہ پہاڑوں کی طرف فرار ہو گئے۔
فائرنگ کے تبادلے کے دوران کسٹمز ویئر ہاؤس میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے، جبکہ علاقے میں فرار دہشت گردوں کی تلاش کے لیے سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔
اہم حقائق اور تجزیاتی نکات
- BLA اور TTP کا بڑھتا گٹھ جوڑ: یہ حملہ ثابت کرتا ہے کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ ہندوستان ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں، جو مختلف محاذوں سے سیکیورٹی فورسز پر دباؤ بڑھانے کی منظم کوشش کر رہے ہیں۔
- بزدلانہ حکمتِ عملی: دہشت گردوں نے روایتی طریقے سے رات کے اندھیرے اور پہاڑی اونچائی کا سہارا لے کر گھات لگا کر حملہ کیا، لیکن فورسز کی پیشہ ورانہ تیاری نے انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔
- افغان سرزمین کا استعمال: دہشت گرد نیٹ ورکس کا سرحد پار سہولت کاری اور لاجسٹک کے لیے افغان سرزمین کو استعمال کرنا علاقائی امن کے لیے مسلسل تشویش کا باعث ہے۔
- معاشی و انتظامی تنصیبات پر وار: کسٹمز اور ایف سی جیسے اداروں کو نشانہ بنانے کا مقصد علاقے میں تجارت، مواصلات اور روزگار کے ذرائع کو متاثر کرنا ہے۔
ریاست اور سیکیورٹی فورسز کا عزم واضح ہے کہ دہشت گردوں کے تمام نیٹ ورکس، سہولت کاروں اور مددگاروں کے مکمل خاتمے تک یہ آپریشنز بلا تعطل جاری رہیں گے۔




