Reko Diq: Balochistan ke Sehra se Ubharta Hua Pakistan ka Maashi Mustaqbil
Reko Diq: Balochistan ke Sehra se Ubharta Hua Pakistan ka Maashi Mustaqbil
بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑوں اور تپتے صحرا کے نیچے ایک ایسا خزانہ دفن ہے جسے بعض ماہرین پاکستان کی معاشی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھنے والا منصوبہ قرار دیتے ہیں۔ ضلع چاغی میں واقع ریکو ڈِک بظاہر ایک خاموش اور ویران علاقہ ہے، مگر اس کی اہمیت اس وقت غیر معمولی ہو جاتی ہے جب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں دنیا کے بڑے تانبے اور سونے کے ذخائر موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج ریکو ڈِک صرف ایک معدنی منصوبہ نہیں رہا بلکہ عالمی سرمایہ کاری، علاقائی سیاست، سیکیورٹی اور پاکستان کے مستقبل کا ایک بڑا امتحان بن چکا ہے۔

بلوچی زبان میں “ریکو ڈِک” کا مطلب “ریتلی چوٹی” ہے، لیکن اس ریت کے نیچے چھپا سرمایہ عالمی توجہ کا مرکز ہے۔ عام طور پر عوامی مباحثوں میں اربوں ٹن سونے کے ذخائر کی بات کی جاتی ہے، حالانکہ حقیقت اس سے کچھ مختلف اور زیادہ تکنیکی ہے۔ یہاں تقریباً 5.9 ارب ٹن خام معدنی چٹان موجود ہے، جسے کئی دہائیوں تک پراسیس کرنے کے بعد اندازاً سولہ ارب پاؤنڈ تانبا اور تقریباً 27 ملین اونس سونا حاصل کیا جا سکتا ہے۔ موجودہ دور میں تانبا محض ایک دھات نہیں بلکہ ڈیجیٹل اور گرین انرجی انقلاب کی بنیاد بن چکا ہے۔ الیکٹرک گاڑیاں، سولر پینلز، ڈیٹا سینٹرز اور جدید الیکٹرانکس سب تانبے پر انحصار کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی طاقتیں اور بڑی مائننگ کمپنیاں ایسے ذخائر پر گہری نظر رکھتی ہیں۔
بیرک گولڈ کینیڈا کی معروف کمپنی کی بھاری سرمایہ کاری اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے کہ عالمی سرمایہ کار ریکو ڈِق کو مستقبل کے ایک اسٹریٹجک اثاثے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں علاقائی کشیدگی اور سیکیورٹی خدشات کے باوجود کمپنی نے واضح کیا کہ منصوبہ اپنے شیڈول کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے۔ اعلیٰ سطحی وفود کے دورے، جدید مائننگ مشینری کی خریداری، اور عالمی مالیاتی اداروں کی دلچسپی اس بات کی علامت ہے کہ دنیا پاکستان کے اس منصوبے کو محض ایک مقامی کان کی نظر سے نہیں دیکھ رہی بلکہ عالمی سپلائی چین کے اہم حصے کے طور پر دیکھ رہی ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ریکو ڈِک واقعی بلوچستان اور پاکستان کے عوام کی تقدیر بدل سکے گا؟ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ قدرتی وسائل ہمیشہ خوشحالی نہیں لاتے۔ دنیا کے کئی وسائل سے مالا مال ممالک بیرونی مداخلت کا شکار رہے ہیں۔ اس تناظر میں ریکو ڈِق کا اصل امتحان صرف معدنیات نکالنا نہیں بلکہ ان کوختم کرنا یقینی بنانا ہے۔
ورلڈ بینک (2023) کی ایک رپورٹ کے مطابق
“قدرتی وسائل سے مالا مال ممالک میں اگر شفاف گورننس اور مقامی شمولیت یقینی بنائی جائے تو معدنی منصوبے غربت میں نمایاں کمی لا سکتے ہیں۔”
اسی طرح جرنل آف ڈیولپمنٹ اسٹڈیز میں شائع ایک تحقیق کے مطابق، بڑے مائننگ پروجیکٹس اسوقت ہی دیرپا معاشی فائدہ دیتے ہیں جب مقامی آبادی کو فیصلہ سازی اور منافع دونوں میں شامل کیا جائے۔
مقامی لوگوں کے لیے خوش آئند بات یہ ہے کہ اب ریاست پاکستان نے نئے قوانین اور پالیسیون کے تحت ان کو براِئے راست شراکت دار بنایا ہے۔ منصوبے میں حکومت بلوچستان کا 25 فیصد حصہ رکھا گیا ہے، جس میں ایک بڑا حصہ “فری کیرڈ” بنیاد پر شامل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں حاصل ہونے والے منافع کا ایک نمایاں حصہ براہِ راست صوبے کی ترقی پر خرچ ہونا چاہیے۔ اسی طرح ہزاروں مقامی افراد کے لیے روزگار، فنی تربیت، صحت اور صاف پانی کے منصوبے بھی اس پراجیکٹ کا حصہ بنائے جا رہے ہیں۔ اگر یہ وعدے عملی شکل اختیار کر لیتے ہیں تو ریکو ڈِق بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے بندوق کی بجائے روزگار اور ترقی کی علامت بن سکتا ہے۔
تاہم حقیقت یہ بھی ہے کہ ریکو ڈِک صرف معاشی منصوبہ نہیں بلکہ ایک سیکیورٹی چیلنج بھی ہے۔ بلوچستان میں کئی دہائیوں سے شورش، دہشت گردی اور غیر ملکی مفادات کی کشمکش جاری ہے۔ جب بھی کوئی بڑا معاشی منصوبہ آگے بڑھتا ہے، حملوں اور عدم استحکام کی نئی لہر سامنے آ جاتی ہے۔ غیر ملکی انجینئرز، سیکیورٹی فورسز اور ترقیاتی منصوبے اکثر نشانہ بنتے ہیں۔ اس صورتحال کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ عالمی سرمایہ کار خوفزدہ ہو جاتے ہیں، انشورنس اور آپریشنل لاگت بڑھ جاتی ہے، اور پاکستان کی عالمی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔

آکسفورڈ انسٹیٹیوٹ فار انرجی اسٹڈیز کے مطابق
“وسائل سے بھرپور خطوں میں سرمایہ کاری کا تسلسل صرف اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب ریاست سیکیورٹی اور معاشی استحکام دونوں کو ایک ساتھ یقینی بنائے۔”
کہانی اتنی سادہ نہیں ہے۔ جہاں اتنا بڑا خزانہ ہو، وہاں خطرات بھی اتنے ہی بڑے ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب بھی کوئی غیر ملکی کمپنی یہاں کام شروع کرتی ہے، یا سی پیک کے تحت کوئی نیا روٹ بنتا ہے، تو وہاں سیکیورٹی فورسز یا غیر ملکی انجینئرز پر حملے شروع ہو جاتے ہیں۔ جنہیں پاکستان کو معاشی طور پر مفلوج رکھنے کے لیے بیرونی قوتوں کی مالی اور عسکری معاونت حاصل ہوتی ہے۔ ان حملوں کا مقصد عالمی میڈیا پر یہ تاثر دینا ہے کہ “پاکستان سرمایہ کاری کے لیے محفوظ نہیں ہے”۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ریاست پاکستان نے ایک نئی حکمتِ عملی اپناِئی ہے، جسے “سیکیورٹی بذریعہ ترقی” کہا جا سکتا ہے۔ اس سوچ کے مطابق محض ان شرپسندوں کے خلاف عسکری کارروائرں کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی کو ترقی کے ثمرات میں حقیقی حصہ دیا جا رہا ہے۔ مقامی عوام کو بہتر مستقبل، تعلیم، پانی، ہسپتال اور روزگار کا مہیا ہوں، تاکہ وہ خود اس منصوبے کے سب سے بڑے محافظ بن سکیں۔ دنیا میں پائیدار سیکیورٹی کی یہی کامیاب مثالیں دیکھی گئی ہیں۔
اس کے باوجود خدشات اپنی جگہ موجود ہیں۔ بلوچستان ایک خشک اور ماحولیاتی لحاظ سے حساس خطہ ہے۔ مائننگ کے لیے درکار پانی مقامی آبی ذخائر پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔ اس لیے عوامی اعتماد جیتنے کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ریکو ڈِک پاکستان کے لیے ایک تاریخی موقع ہے، لیکن یہ موقع صرف معدنی دولت کی وجہ سے اہم نہیں۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ اب جس طرح ریاست، سرمایہ کار اور مقامی آبادی کی ایک متوازن شراکت داری قائم ہو رہی ہے اب ریکو ڈِک دراصل صرف ایک کان نہیں، بلکہ پاکستان کا مستقبل ہے۔