حقوق کے نام پر بلوچوں کا معاشی قتل — شاہراہ بند، روزگار ختم، بیانیہ بے نقاب

Listen to this article Ready to play
00:00 --:--
Voice is generated privately by your browser. No audio file is downloaded.

کالعدم دہشت گرد تنظیم بی ایل اے نے مقامی بلوچوں کو دھمکی دی ہے کہ کوئٹہ-تفتان (N-40) ہائی وے اب ان کے “مکمل کنٹرول” میں ہے اور وہ اس روٹ سے کسی بھی قسم کی مال برداری کی اجازت نہیں دیں گے خصوصاً بلوچستان سے وسائل کی ترسیل (سیندک اور ریکوڈک منصوبوں سے وابستہ سامان) لے جانے والے تمام ٹرکوں، ٹرالروں اور قافلوں کو سخت نشانہ بنایا جائے گا۔

یعنی بلوچوں کے
حقِ روزگار
حقِ آزادانہ نقل و حرکت
حقِ تجارت و معاشی سرگرمی
اور حق ترقی کا قتل
اور وہ بھی بلوچوں کے حقوق کے نام پر…

بلوچستان کے لاکھوں جوانوں، مزدوروں ، ٹرک ڈرائیوروں ،اور ٹھیکیداروں کا چولہا اس شاہراہ سے چلتا ہے وہ جہاں سے پھل میوہ جات دوسرے صوبوں میں لے جاتے ہیں اور وہاں سے گندم اناج دالیں سبزیاں لاتے ہیں، مائننگ کمپنیز میں کام کرنے والے، ترسیل کرنے والے بھی سب کے سب مقامی بلوچ ہیں اور وسائل کی آمدن کا مالک بھی صوبہ ہے
اس ہائی وے پر قائم سینکڑوں ہوٹل، ورکشاپس اور پٹرول پمپس مقامی بلوچوں کے ہیں، جن کا کاروبار شاہراہ بلاک ہونے سے ٹھپ ہو سکتا ہے
تو پھر شاہراہ کی بندش کا اثر کس پہ ہوا؟
عام بلوچ پر..
بلوچستان کی معیشت پر…
یہ تنظیم جانتی ہے کہ بلوچستان اگر تجارت، معدنیات، بندرگاہوں اور علاقائی رابطوں کا مرکز بن گیا تو حقوق اور محرومی والا بیانیہ دم توڑ جائے گا ۔
اسی لیے کبھی مزدور مارے جاتے ہیں، کبھی اساتذہ، کبھی انجینئر، اور کبھی ٹرانسپورٹرز کو دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اگر یہ لوگ واقعی بلوچ عوام کے خیر خواہ ہیں تو پھر بلوچوں کے حقوق کے نام پر بلوچوں کا معاشی قتل ہی کیوں بلوچ نوجوانوں کی نوکریوں، بلوچ ڈرائیوروں کی روزی، بلوچ تاجروں کے کاروبار اور بلوچ عوام کی آمد و رفت، انفراسٹرکچر ہی کیوں نشانہ ہے ؟
بھوک کے مارے معاشرے میں سڑک بند کرنا بغیر گولی قتل ہے ۔

اگر ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے تو لاکھوں انسانوں کا معاشی قتل کرکے انھیں خودکشی پر مجبور کرنا کیا ہوا؟
اول تو شاہراہ کے کنٹرول والا بیان ہی غلط ہے کوئٹہ-تفتان (N-40) جیسی سٹریٹیجک اور بین الاقوامی شاہراہ پر ان کا کوئی مستقل کیا عارضی کنٹرول بھی نہیں ہے یہ دہشت گرد (Hit-and-Run) حملے کرنے یا ناکہ بندی کی کوشش کرتے ہیں لیکن ریاست کے سامنے اتنی پاور نہیں رکھتے کہ ایک شاہراہ کا کنٹرول سنبھال لیں ،

دوم بی ایل اے کی اجازت چاہیے کس کو؟؟ یہ قومی شاہراہ ہے لسانیت کی علامت نہیں کہ اسے لسانیت کی بنیاد پر کوئی بھی بند کر دے یہ ریاست کی ملکیت ہے اور ریاست اپنی رٹ قائم کرنا جانتی ہے تاہم بی ایل اے کے حالیہ بیان نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ دہشت گرد تنظیمیں کبھی عوام کی نمائندہ نہیں ہوتیں، وہ حقوق کی محافظ نہیں قاتل ہوتی ہیں وہ صرف خوف کی نمائندہ ہوتی ہیں۔
عام بلوچ اپنی پسماندگی کا سبب جانتے ہیں انفراسٹرکچر کون تباہ کرتا ہے ان کو حقوق کے حصول کی راہ میں رکاوٹ کون ہے اس سے واقف ہیں بلوچ ہی متاثرین بی ایل اے ہے
اس لیے عام بلوچ کو بی ایل اے سے جوڑنا غلط ہے

Disclaimer: The opinions expressed in this article are solely those of the author. They do not represent the views, beliefs, or policies of KhabarKada.

🖨 Print📄 PDF

Related

Latest

ڈیرہ اسماعیل خان: درازندہ کے قریب امن میلہ چیک پوسٹ پر خودکش حملہ، 11 افراد شہید اور 30 سے زائد زخمی

خبرکدا ویب ڈیکس: ڈی آئی خان کے علاقے درازندہ میں ڈی آئی خان اور کوئٹہ روڈ پر واقع امن میلہ پولیس چیک پوسٹ پر فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کی طرف سے ایک طاقتور خودکش وی بی آئی ای ڈی (VBIED) حملے کے نتیجے میں 11 افراد شہید جبکہ 30 سے زائد زخمی ہو گئے۔

Read More »

خوارج کے ناپاک عزائم خاک میں مل جائیں گے: دہشت گردی کے خلاف پاکستان کا غیر متزلزل عزم

خبرکدا ویب ڈیکس:  ملک میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے تناظر میں ریاستی اداروں اور سکیورٹی فورسز کا موقف دوٹوک انداز میں سامنے آیا ہے کہ بیرونی سرپرستوں اور دشمن خفیہ ایجنسیوں کی پشت پناہی سے کام کرنے والے خوارج کے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے تمام عزائم کو ناکام بنا دیا جائے گا۔

Read More »

حب انڈسٹریل اسٹیٹ: لیسبیلا اتھارٹی کا صنعتی سہولیات میں اضافہ اور بند یونٹس کی بحالی کا عزم

خبرکدا ویب ڈیکس:  لیسبیلا انڈسٹریل اسٹیٹس ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LIEDA) کے مینیجنگ ڈائریکٹر لیاقت علی کاشانی نے کہا ہے کہ اتھارٹی صنعت کاروں کو ‘ون ونڈو’ آپریشنز کے تحت تمام سہولیات فراہم کر رہی ہے، جبکہ حب میں بند صنعتی یونٹس کی بحالی کے لیے ایک نئی پالیسی پر عمل درآمد جاری ہے۔

Read More »