مغربی میڈیا کا دوہرا معیار اور پاکستان کا جوہری بیانیہ: فکری بددیانتی کی نئی قسط

Listen to this article Ready to play
00:00 --:--
Voice is generated privately by your browser. No audio file is downloaded.

مغرب اور عالمی ذرائع ابلاغ کی جانب سے پاکستان کے دفاعی و اسٹریٹجک پروگراموں کے خلاف منفی اور مخصوص

زاویہٴ نظر پر مبنی رپورٹنگ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ تاہم، جرمنی کے سرکاری نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے (DW) کی جانب سے پاکستان کے جوہری پروگرام پر حال ہی میں نشر کی جانے والی 52 منٹ کی دستاویزی فلم نے صحافتی اخلاقیات، غیر جانبداری اور فکری دیانت کے تمام تقاضوں کو ایک بار پھر پامال کر دیا ہے۔ اس دستاویزی فلم کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ یہ غیر جانبدارانہ صحافت نہیں، بلکہ ایک طے شدہ سیاسی نتیجے تک پہنچنے کے لیے تیار کیا گیا پروپیگنڈا ہے۔

ڈوئچے ویلے کی اس فلم کا بنیادی لبِ لباب اور ڈرامائی سکرپٹ ایک روایتی اور فرسودہ مغربی فارمولے پر مبنی ہے: چند ڈرامائی مناظر، خوفزدہ کر دینے والی پس منظر موسیقی، کسی مذہبی تقریب یا شخصیت کی تصاویر اور پھر پاکستان کی جوہری تنصیبات کا منظر—جس کا مقصد عالمی برادری کو یہ باور کرانا ہے کہ ایک “اسلامی ایٹم بم” غیر محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس سنسنی خیزی کے پیچھے کوئی وزنی قانونی، اسٹریٹجک یا تاریخی دلیل موجود ہے؟

پاکستانی اسٹریٹجک اور علمی حلقوں، بالخصوص مشاہد حسین سید، سید طلعت حسین، خالد بنوری اور پروفیسر رابعہ اختر کی جانب سے آنے والا شدید ردعمل اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اب ایسے یکطرفہ بیانیے کو بغیر چیلنج کیے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں
۔تاریخی حقائق کا استحصال

ڈوئچے ویلے کا سب سے بڑا مغالطہ اور فکری بددیانتی یہ ہے کہ اس نے 1998 کے پاکستانی جوہری تجربات کو تو نمایا ں کیا، لیکن ان حالات اور پس منظر کو یکسر نظر انداز کر دیا جس کے تحت پاکستان کو یہ فیصلہ کرنا پڑا۔ جنوبی ایشیا میں جوہری دوڑ کی شروعات پاکستان نے نہیں بلکہ بھارت نے 1974 میں کی تھی، اور بعد ازاں مئی 1998 میں بھارت نے پوکھران میں دوبارہ دھماکے کر کے خطے کے طاقت کے توازن کو بری طرح بگاڑ دیا۔ اگر پاکستان 28 مئی 1998 کو چاغی کے پہاڑوں میں جوابی دھماکے نہ کرتا، تو جنوبی ایشیا میں روایتی فوجی برتری کا حامل بھارت کسی بھی وقت خطے پر اپنی جارحیت مسلط کر سکتا تھا۔ اس تاریخی تناظر کو حذف کرنا پاکستان کو ایک “جارح” اور “خطرہ” کے طور پر پیش کرنے کی مذموم کوشش کے سوا کچھ نہیں ہے۔

قانون اور اخلاقیات کا فرق

فلم میں بار بار یہ دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان نے “غیر قانونی” طور پر جوہری صلاحیت حاصل کی۔ یہ دعویٰ قانونی لحاظ سے خام اور باطل ہے۔ پاکستان نے کبھی ‘جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے’ (NPT) پر دستخط نہیں کیے، لہٰذا کسی معاہدے کی خلاف ورزی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اگر مغربی میڈیا اخلاقی ناپسندیدگی کو “غیر قانونی” کا نام دیتا ہے، تو پھر یہی معیار بھارت اور اسرائیل پر کیوں لاگو نہیں ہوتا؟ مغرب کا یہ دوہرا معیار ہی اس کے غیر جانبدارانہ صحافت کے دعوؤں کا پول کھولتا ہے، جہاں بھارت کے جوہری پروگرام کو ایک “اسٹریٹجک حقیقت” جبکہ پاکستان کے پروگرام کو ایک “مجرمانہ اقدام” بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔

کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم اور خود متنازع بیانیہ

مغربی ذرائع ابلاغ میں پچھلی دو دہائیوں سے یہ خوف بیچا جا رہا ہے کہ پاکستانی ایٹمی اثاثے انتہا پسندوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے میں پاکستان نے اپنے جوہری اثاثوں کے لیے ایک محفوظ، جدید اور محفوظ ترین ‘کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم’ (NCA) قائم کیا ہے، جس کی تعریف خود بین الاقوامی ماہرین اور اداروں نے کی ہے۔ خود DW کی اس فلم میں شامل بعض ماہرین نے پاکستان کے ادارے جاتی حفاظتی اقدامات کا اعتراف کیا، مگر افسوس کہ ان اعترافات کو خوف اور سنسنی خیزی کے شور میں دبا دیا گیا۔

نتیجہ

DW کی یہ دستاویزی فلم تجزیے کے بجائے مفروضوں اور شواہد کے بجائے اشاروں کنایوں پر چلی ہے۔ 2024 میں صحافتی سرگرمیوں کی آڑ میں پاکستان کا دورہ کرنے والی ٹیم کے مقاصد اب کھل کر سامنے آ چکے ہیں۔ لیکن عالمی میڈیا کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ پاکستان کا جوہری پروگرام کسی ملٹری ایڈونچر یا انتہا پسندانہ سوچ کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ پاکستان کی قومی بقا، خودمختاری اور خطے میں پائیدار امن کی ضامن کیلیبر ہے۔

مغربی اداروں کو اب ‘اسلامو فوبیا’ اور 9/11 کے بعد کی پرانی عینک اتار کر جنوبی ایشیا کی حقیقی اسٹریٹجک صورتحال کا سنجیدگی سے جائزہ لینا ہوگا۔ پاکستان کے ایٹمی اثاثے اتنے ہی محفوظ ہیں جتنے کسی بھی دوسری ذمہ دار ایٹمی ریاست کے، اور اس حقیقت کو مسخ کرنے کی ہر کوشش فکری بددیانتی ہی کہلائے گی۔

Disclaimer: The opinions expressed in this article are solely those of the author. They do not represent the views, beliefs, or policies of KhabarKada.

🖨 Print📄 PDF

Related

Latest

ڈیرہ اسماعیل خان: درازندہ کے قریب امن میلہ چیک پوسٹ پر خودکش حملہ، 11 افراد شہید اور 30 سے زائد زخمی

خبرکدا ویب ڈیکس: ڈی آئی خان کے علاقے درازندہ میں ڈی آئی خان اور کوئٹہ روڈ پر واقع امن میلہ پولیس چیک پوسٹ پر فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کی طرف سے ایک طاقتور خودکش وی بی آئی ای ڈی (VBIED) حملے کے نتیجے میں 11 افراد شہید جبکہ 30 سے زائد زخمی ہو گئے۔

Read More »

خوارج کے ناپاک عزائم خاک میں مل جائیں گے: دہشت گردی کے خلاف پاکستان کا غیر متزلزل عزم

خبرکدا ویب ڈیکس:  ملک میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے تناظر میں ریاستی اداروں اور سکیورٹی فورسز کا موقف دوٹوک انداز میں سامنے آیا ہے کہ بیرونی سرپرستوں اور دشمن خفیہ ایجنسیوں کی پشت پناہی سے کام کرنے والے خوارج کے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے تمام عزائم کو ناکام بنا دیا جائے گا۔

Read More »

حب انڈسٹریل اسٹیٹ: لیسبیلا اتھارٹی کا صنعتی سہولیات میں اضافہ اور بند یونٹس کی بحالی کا عزم

خبرکدا ویب ڈیکس:  لیسبیلا انڈسٹریل اسٹیٹس ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LIEDA) کے مینیجنگ ڈائریکٹر لیاقت علی کاشانی نے کہا ہے کہ اتھارٹی صنعت کاروں کو ‘ون ونڈو’ آپریشنز کے تحت تمام سہولیات فراہم کر رہی ہے، جبکہ حب میں بند صنعتی یونٹس کی بحالی کے لیے ایک نئی پالیسی پر عمل درآمد جاری ہے۔

Read More »