فتنہ الہندوستان بی ایل اے کی ماہانہ اشاعت “اسپر” کا اگست 2026 کا شمارہ جاری، پروپیگنڈا مہم بے نقاب

Listen to this article Ready to play
00:00 --:--
Voice is generated privately by your browser. No audio file is downloaded.

فتنہ الہندوستان سے منسلک بلوچ لبریشن فرنٹ نے اپنے میڈیا ونگ “آشوب پبلیکیشنز” کے ذریعے اپنی ماہانہ اشاعت “اسپر“ کا تئیسواں شمارہ جاری کر دیا ہے۔ یہ اشاعت ایک منظم پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہے، جس کا مقصد دہشت گردی کی کارروائیوں کو جائز ثابت کرنا، شدت پسند عناصر کو ہیرو کے طور پر پیش کرنا اور نوجوانوں کو تنظیم کی جانب راغب کرنا ہے۔

اس شمارے میں نام نہاد ریاستی جبر، جبری گمشدگیوں، وسائل کے استحصال اور سیاسی محرومی جیسے موضوعات کو بنیاد بنا کر دہشت گردی کو “مزاحمتی تحریک” کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ تاہم اس تمام بیانیے میں عام شہریوں، مزدوروں، تعلیمی اداروں، مسافر بسوں اور ترقیاتی منصوبوں پر ہونے والے حملوں کا کوئی ذکر موجود نہیں۔

مقامی عوام کے مطابق چاغی میں تنظیم کے نام نہاد اثر و رسوخ کے دعوے بھی حقائق کے برعکس ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ علاقے میں ریاستی عمل داری مکمل طور پر برقرار ہے، جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے مسلسل انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں کر رہے ہیں تاکہ دہشت گرد نیٹ ورک کو ختم کیا جا سکے۔

اسی طرح ریکوڈک اور سیندک منصوبوں کے حوالے سے بھی متعدد دعوؤں کو گمراہ کن قرار دیا جا رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق حکومتِ بلوچستان ریکوڈک منصوبے میں 25 فیصد شراکت دار ہے، جبکہ منصوبے میں کام کرنے والے ملازمین کی اکثریت کا تعلق بلوچستان سے ہے۔

ذرائع کے مطابق “اسپر” کے تازہ شمارے میں آر پی جی-7 کے استعمال اور گوریلا جنگ کی حکمت عملی سے متعلق تفصیلی مواد بھی شامل کیا گیا ہے، جس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوتا ہے کہ یہ محض ایک جریدہ نہیں بلکہ شدت پسند عناصر کے لیے ایک تربیتی دستاویز بھی ہے۔

دوسری جانب پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ملک بھر میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ بلوچستان سمیت مختلف علاقوں میں متعدد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران کئی دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا، جبکہ ان کے ٹھکانوں کو بھی تباہ کیا گیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق شدت پسند تنظیمیں سوشل میڈیا، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور خفیہ اشاعتوں کے ذریعے اپنے نظریات کو فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہیں، لیکن زمینی حقائق ان کے دعوؤں سے مطابقت نہیں رکھتے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے عوام امن، ترقی، تعلیم اور معاشی استحکام کے خواہاں ہیں اور وہ ایسے عناصر کو مسترد کرتے ہیں جو تشدد اور خوف کو اپنے مقاصد کے حصول کا ذریعہ بناتے ہیں۔

Disclaimer: The opinions expressed in this article are solely those of the author. They do not represent the views, beliefs, or policies of KhabarKada.

🖨 Print📄 PDF

Related

Latest

تاریخی حقائق بمقابلہ بے بنیاد دعوے: مشرف حسین سید کا اسامہ بن لادن سے متعلق بیان

سینئر سیاستدان مشرف حسین سید کا ایک ویڈیو کلپ سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ “پاکستان نے سی آئی اے کے کہنے پر اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کی تربیت کی تھی۔” تاہم، تاریخی ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے تو یہ دعویٰ مختلف ادوار اور نیٹ ورکس کو ملا کر ایک ایسا بیانیہ بناتا ہے جس کی کوئی تاریخی تصدیق نہیں ہوتی。

Read More »

آپریشن ردالفتنہ 3: کیچ مزابند میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی، ایک دہشتگرد ہلاک

خبر کدا ویب ڈیکس: بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری ہیں۔ ضلع کیچ کے علاقے مزابند رینج میں سیکیورٹی فورسز نے مصدقہ اطلاعات کی بنیاد پر ایک اہم کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الہندوستان کے ایک دہشتگرد کو ہلاک کر دیا ہے۔

Read More »

ایک ہی سٹیج، ایک ہی سکرپٹ: جنیوا میں پی ٹی ایم اور بی این ایم کا اتحاد بے نقاب

خبر کدا ویب ڈیکس: بین الاقوامی فورمز پر سامنے آنے والی حالیہ پیش رفت نے ریاست مخالف عناصر کے درمیان گہرے روابط کو مکمل طور پر بے نقاب کر دیا ہے، جب پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنما منظور پشتین نے جنیوا میں بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کی کانفرنس میں شرکت کی اور خطاب کیا۔

Read More »