افغانستان کا بگڑتا منظرنامہ اور اقوامِ متحدہ کی چونکا دینے والی رپورٹ

Listen to this article Ready to play
00:00 --:--
Voice is generated privately by your browser. No audio file is downloaded.

عالمی برادری اور خاص طور پر خطے کے ممالک طویل عرصے سے جس خدشے کا اظہار کر رہے تھے، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی 38ویں مانیٹرنگ ٹیم (UNMT) کی حالیہ رپورٹ نے اس پر تصدیق کی مہر ثبت کر دی ہے۔ عالمی ادارے کی یہ رپورٹ محض چند واقعات کا مجموعہ نہیں، بلکہ اس بات کا احاطہ کرتی ہے کہ کس طرح افغان سرزمین آج بھی بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ اور سازگار مسکن بنی ہوئی ہے۔

کابل میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے وقت دنیا کو یہ باور کرایا گیا تھا کہ افغان سرزمین کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔ تاہم، یو این رپورٹ کے حقائق یہ ثابت کرتے ہیں کہ طالبان حکام دہشت گردی کے اس ناسور پر قابو پانے میں نہ صرف ناکام رہے ہیں، بلکہ بعض مواقع پر ان کا رویہ تحرک کے بجائے چشم پوشی پر مبنی رہا ہے۔

پاکستان پر مسلسل حملے اور ٹی ٹی پی کا کردار

رپورٹ کا سب سے نچلا اور تشویشناک پہلو تحریک طالبان پاکستان (TTP) کے حوالے سے ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ٹی ٹی پی نے افغان سرزمین کو محفوظ بیس بنا کر پاکستان کے خلاف ’آپریشن خیبر‘ کے نام سے دہشت گردانہ مہم چلائی۔ اس کی واضح مثال رواں برس 16 فروری کو باجوڑ میں ہونے والا وہ دلخراش حملہ تھا جس میں 11 سیکیورٹی اہلکار اور ایک معصوم بچہ شہید ہوئے۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس طرح کے مہلک حملوں کے بعد طالبان حکومت نے ٹی ٹی پی کی بیخ کنی کرنے یا ان کے خلاف فیصلہ کن اقدام اٹھانے کے بجائے، ان کے تقریباً دو ہزار جنگجوؤں اور ان کے اہل خانہ کو پاکستان کی سرحد سے ہٹا کر صرف افغانستان کے اندرونی علاقوں میں منتقل کر دیا۔ یہ قدم انسدادِ دہشت گردی کی کسی بھی سنجیدہ حکمتِ عملی کا مظہر نہیں، بلکہ محض ایک عارضی پردہ پوشی نظر آتا ہے۔

القاعدہ، بی ایل اے اور داعش کا خوفناک اتحاد

اقوامِ متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم نے افغان سرزمین پر قائم ایک انتہائی مہلک اور پیچیدہ ’دہشت گردی کے گٹھ جوڑ‘ کا پردہ چاک کیا ہے۔ رپورٹ میں ایک رکن ملک کی فراہم کردہ اس سنسنی خیز اطلاع کا ذکر ہے کہ کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) کے جنگجوؤں نے افغانستان میں القاعدہ کے تربیت کاروں کی زیرِ نگرانی ٹی ٹی پی کے ساتھ مل کر تربیت حاصل کی ہے۔

صرف یہی نہیں، بلکہ رپورٹ کے مطابق:

  • القاعدہ برصغیر (AQIS): کابل میں موجود اپنی اعلیٰ قیادت کے ساتھ طالبان کے ورکنگ فریم ورک کا حصہ بنی ہوئی ہے اور ‘اتحاد المجاہدین پاکستان’ جیسے نئے گٹھ جوڑ قائم کر رہی ہے، جو بنوں پر ہونے والے مہلک حملوں میں براہِ راست ملوث تھا۔
  • داعش خراسان (ISIL-K): اگرچہ طالبان اور اس گروہ کے درمیان کشمکش موجود ہے، لیکن داعش اب بھی نائٹ ویژن، تھرمل امیجرز اور ڈرونز جیسے جدید ترین آلات کا استعمال کرتے ہوئے ایک سنگین خطرہ بنی ہوئی ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ لاجسٹکس اور سہولت کاری کے لیے داعش اور BLA کے درمیان مشترکہ نیٹ ورکس کا انکشاف ہوا ہے۔
  • ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ETIM): بدخشاں اور قندوز میں القاعدہ کے تربیتی کیمپوں کی مدد سے اپنے نیٹ ورک کو دوبارہ طاقتور بنا رہی ہے۔

چھوڑا گیا جدید اسلحہ: ایک ہلاکت خیز ہتھیار

رپورٹ میں اس تشویشناک امر پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ غیر ملکی افواج کے انخلا کے وقت افغانستان میں جو بھاری مقدار میں جدید اور مہلک ترین فوجی سازوسامان چھوٹ گیا تھا، وہ اب ان تمام متشدد گروہوں کی آسانی سے دستیاب سہولت بن چکا ہے۔ نائٹ ویژن اور جدید ترین اسلحے نے ان تنظیموں کی حملہ کرنے کی صلاحیت کو کئی گنا بڑھا دیا ہے، جس کا خمیازہ براہِ راست خطے بالخصوص پاکستان کے شہریوں اور سیکیورٹی فورسز کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

حرفِ آخر

اقوامِ متحدہ کی 38ویں رپورٹ نے طالبان حکومت کی ان تمام دعووں کی قلعی کھول دی ہے جن میں وہ افغان سرزمین کے پرامن ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ محض ایک آدھ گروہ کے خلاف دکھاوے کی کارروائیوں سے بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری نہیں ہوتیں۔

اگر افغان حکمران چاہتے ہیں کہ دنیا انہیں ایک ذمہ دار حکومت کے طور پر تسلیم کرے، تو انہیں اپنی سرزمین سے آپریٹ کرنے والے تمام دہشت گرد گروہوں—خواہ وہ TTP ہو، BLA، القاعدہ یا داعش—کے خلاف یکساں اور بلا تفریق آپریشن کرنا ہوگا۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو افغانستان سے اٹھنے والی دہشت گردی کی یہ لپیٹیں نہ صرف پاکستان اور پڑوسی ممالک کو متاثر کرتی رہیں گی، بلکہ خود افغانستان کو بھی دوبارہ کسی نئے اور گہرے بحران کی طرف دھکیل دیں گی۔

Disclaimer: The opinions expressed in this article are solely those of the author. They do not represent the views, beliefs, or policies of KhabarKada.

🖨 Print📄 PDF

Related

Latest

تاریخی حقائق بمقابلہ بے بنیاد دعوے: مشرف حسین سید کا اسامہ بن لادن سے متعلق بیان

سینئر سیاستدان مشرف حسین سید کا ایک ویڈیو کلپ سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ “پاکستان نے سی آئی اے کے کہنے پر اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کی تربیت کی تھی۔” تاہم، تاریخی ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے تو یہ دعویٰ مختلف ادوار اور نیٹ ورکس کو ملا کر ایک ایسا بیانیہ بناتا ہے جس کی کوئی تاریخی تصدیق نہیں ہوتی。

Read More »

آپریشن ردالفتنہ 3: کیچ مزابند میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی، ایک دہشتگرد ہلاک

خبر کدا ویب ڈیکس: بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری ہیں۔ ضلع کیچ کے علاقے مزابند رینج میں سیکیورٹی فورسز نے مصدقہ اطلاعات کی بنیاد پر ایک اہم کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الہندوستان کے ایک دہشتگرد کو ہلاک کر دیا ہے۔

Read More »

ایک ہی سٹیج، ایک ہی سکرپٹ: جنیوا میں پی ٹی ایم اور بی این ایم کا اتحاد بے نقاب

خبر کدا ویب ڈیکس: بین الاقوامی فورمز پر سامنے آنے والی حالیہ پیش رفت نے ریاست مخالف عناصر کے درمیان گہرے روابط کو مکمل طور پر بے نقاب کر دیا ہے، جب پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنما منظور پشتین نے جنیوا میں بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کی کانفرنس میں شرکت کی اور خطاب کیا۔

Read More »