
(ویب ڈیسک)حکومتِ بلوچستان نے صوبے میں کالعدم تنظیموں اور دہشت گردانہ سرگرمیوں سے مبینہ تعلق کے الزام میں 9 مطلوب خواتین کی فہرست اور تصاویر جاری کر دی ہیں۔ ان خواتین کا تعلق گوادر، جیوانی، تربت اور پاسنی سے بتایا جاتا ہے۔ تاہم، حکومتی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ اس اقدام کو بلوچ خواتین یا مقامی ثقافت کے خلاف کارروائی کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے، بلکہ اس کا بنیادی ہدف دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔
دہشت گرد تنظیموں کا ثقافتی روایات کا استحصال
ترجمان کے مطابق، کالعدم تنظیمی ساختیں بلوچ معاشرے میں خواتین کو حاصل روایتی احترام اور ثقافتی پاسداری کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں اپنے آپریشنل مقاصد اور حملوں کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔ حکومت کے مطابق، قانون کا تطبیق بغیر کسی جنس، قبیلے یا علاقائی تعصب کے یکساں ہوگا۔
گمراہ خواتین کی بازیابی اور خاندانوں کا موقف
حکومتی رپورٹس کے مطابق، کارروائی کا ایک بنیادی پہلو گمراہ کی گئی خواتین اور لڑکیوں کو بازیاب کرانا بھی ہے۔ ستمبر 2024 میں تربت سے تعلق رکھنے والی نرس عدیلہ بلوچ کو بازیاب کرا کر ان کے والدین کے حوالے کیا گیا تھا، جنہوں نے پریس کانفرنس میں انکشاف کیا تھا کہ ان کی بیٹی کو ورغلایا گیا تھا۔ اسی طرح حال ہی میں کمسن لڑکی خیر النساء کو بھی مبینہ طور پر خودکش حملے کے لیے استعمال کیے جانے سے قبل انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے ذریعے بچا کر ان کے والد کے سپرد کیا گیا۔
اس سے قبل بعض کیسز میں متاثرہ خاندانوں نے پریس کانفرنسز کے ذریعے اپنی لاپتہ بیٹیوں کی گماشتگی یا دہشت گرد تنظیموں میں شمولیت سے برائت کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے ان کی واپسی کے لیے مدد کی اپیل بھی کی تھی۔
قانون کی بالادستی اور یکساں پالیسی
حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ ریاست کا پیغام بالکل واضح ہے: خاتون ہونا یا کسی مخصوص قبیلے سے تعلق رکھنا کسی بھی فرد کو قانون سے بالاتر نہیں بناتا۔ اس کے ساتھ ہی، حکام نے اس بات پر بھی زور دیا کہ چند انفرادی ملزمان کی سرگرمیوں کی بنیاد پر پورے بلوچ معاشرے یا برادری پر لیبل لگانا بھی یکسر غلط ہے۔
حکومتِ بلوچستان نے عام شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ان مطلوب افراد کی نشاندہی اور سراغ لگانے میں سیکیورٹی اداروں کی مدد کریں تاکہ خطے میں امن و امان قائم رکھا جا سکے۔



