
(ویب ڈیسک)معروف سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹویٹر) نے قوانین کی سنگین خلاف ورزی، غلط معلومات کی اشاعت اور منظم نفرت انگیز بیانیے پر “میر یار بلوچ” کے نام سے قائم مرکزی اکاؤنٹ سمیت اس کے بیک اپ ہینڈل کو بھی معطل (Suspend) کر دیا ہے۔
فرضی شناخت اور پروپیگنڈے کا حجم
آرکائیو شدہ ڈیموگرافک ڈیٹا کے مطابق اس اکاؤنٹ کے 1,30,000 سے زائد فالوورز تھے۔ یہ ہینڈل خود کو نام نہاد “جمہوریہ بلوچستان” کا نمائندہ، صحافی اور سفارت کار کے طور پر پیش کرتا تھا۔ حالیہ عرصے میں اس اکاؤنٹ سے پاکستان کے خلاف اشتعال انگیز مواد، جعلی ملٹری آپریشنز اور غیر تصدیق شدہ اطلاعات پھیلائی جا رہی تھیں۔
تحقیقات میں بھارتی نیٹ ورک کا انکشاف
سائبر انویسٹی گیشن اور تحقیقاتی رپورٹس سے معلوم ہوا ہے کہ اس ‘فیک پرسپونا’ کے پیچھے بھارت سے آپریٹ ہونے والے عناصر شامل تھے۔ اکاؤنٹ کی بالواسطہ باگ ڈور نائلہ قادری کے بیٹے مزدک دلشاد بلوچ کے ہاتھ میں تھی، جو 2016 سے نئی دہلی میں انڈین پالیسی فاؤنڈیشن اور دہلی یونیورسٹی سمیت مختلف بھارتی پلیٹ فارمز پر پاکستان اور سی پیک (CPEC) مخالف بیانیہ پروموٹ کرتا رہا ہے۔
آزادانہ ذرائع اور بلوچ ایکٹوسٹس کا موقف
عالمی خبر رساں ادارے الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق، معتبر بلوچ ایکٹوسٹ نیاز بلوچ نے بھی عام صارفین سے اس اکاؤنٹ کو فیک اور جعلی قرار دیتے ہوئے رپورٹس درج کرانے کی اپیل کی تھی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس اکاؤنٹ کی انوہینٹیکٹی (Inauthenticity) اور نقلی ہونے کے شواہد صرف پاکستانی حکومتی ذرائع ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی اور مقامی خود مختار حلقوں کے پاس بھی موجود تھے۔
کوآرڈینیٹڈ ان اتھینٹک بیہیویئر (CIB) پر ایکشن
سوشل میڈیا ماہرین کے مطابق ایکس کی جانب سے یہ اقدام Coordinated Inauthentic Behavior (CIB) اور ہائبرڈ وارفیئر کے خلاف ایک بڑی کامیابی ہے۔ پاکستان کے لیے یہ پیش رفت معلومات کی جنگ (Information Warfare) کے میدان میں انتہائی اہم قرار دی جا رہی ہے۔



