بلوچستان میں سیکیورٹی چیک پوسٹوں کا تنازع: خواتین کا دہشت گردی میں استعمال اور ہدایت الرحمن کی بیانات پر بحث

Listen to this article Ready to play
00:00 --:--
Voice is generated privately by your browser. No audio file is downloaded.

ویب ڈیسک: بلوچستان میں سیکیورٹی اور دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے تناظر میں چیک پوسٹوں پر جاری حالیہ پیشرفت اور رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن کے بیانات نے ایک نیا بحث چھیڑ دیا ہے۔ جہاں ایک طرف سیکورٹی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے، وہاں دوسری طرف کالعدم تنظیموں کی جانب سے خواتین کو بطور ہتھیار اور سہولت کار استعمال کرنے کے تلخ حقائق سامنے آ رہے ہیں۔

بلوچ روایت میں خواتین کا احترام ہمیشہ ایک بنیادی قدر رہا ہے، لیکن گزشتہ چند برسوں میں کالعدم تنظیموں بي ایل اے اور بی ایل ایف نے اس روایت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ان کالعدم گروہوں نے خواتین کو مختلف کارروائیوں، سہولت کاری، نقل و حمل اور خودکش حملوں کے لیے استعمال کیا ہے۔ اپریل 2022 کا کراچی یونیورسٹی پر شاری بلوچ کا حملہ اسی نیٹ ورک اور استحصال کی واضح مثال ہے۔ اطلاعات کے مطابق اب تک ان تنظیموں کی جانب سے متعدد خواتین کو اس راستے پر دھکیلا جا چکا ہے، جبکہ بی وائی سی کا انتہا پسندانہ بیانیہ ان عناصر کے لیے سہولت فراہم کرنے کا باعث بن رہا ہے۔

حالیہ دنوں میں جماعت اسلامی کے رہنما اور گوادر سے منتخب رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن نے جیونی اور پشکان سے آنے والی خواتین کی چیک پوسٹوں پر شناختی تصدیق پر اعتراض اٹھایا اور دعویٰ کیا کہ اس سے خواتین کی عزتِ نفس مجروح ہوتی ہے۔ ان کے اس بیان اور چیک پوسٹ پر دیے گئے موقف کے بعد پولیس نے ان کے خلاف قانونی کارروائی اور مقدمہ (FIR) درج کر لیا ہے۔

تجزیہ کاروں اور متعلقہ حکام کے مطابق:

  • شناخت کا بنیادی نظام: شناختی عمل کوئی نیا قانون نہیں۔ قومی شناختی کارڈ (نادرا)، ڈرائیونگ لائسنس، ہوائی سفر، اور حج پاسپورٹ پر تصویر کا ہونا لازمی قانون کا حصہ ہے۔
  • سیکورٹی کی ضرورت: حکومت بلوچستان کی جانب سے متعدد مطلوب دہشت گرد خواتین کی فہرست اور پوسٹرز جاری کیے گئے ہیں، جن کا تعلق گوادر، جیونی اور تربت جیسے علاقوں سے بتایا جاتا ہے۔
  • ہدف اور مقصد: چیک پوسٹوں پر چہرے اور وژول مانیٹرنگ کا مقصد مطلوب افراد کی بروقت شناخت اور دہشت گردانہ حملوں کا سدباب کرنا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق مولانا ہدایت الرحمن کا بیانیہ اصل مسئلہ (یعنی دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے خواتین کا استعمال) پر بات کرنے کے بجائے سیکیورٹی اداروں کو نشانہ بناتا ہے۔ سیکیورٹی کارروائیوں کی سخت اقدامات اصل میں ان دہشت گرد گروہوں کے عمل کا ردِعمل ہیں۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کا موقف ہے کہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والے یا ان کی سہولت کاری کرنے والے چاہے مرد ہوں یا خواتین، انہیں قانون کا سامنا کرنا ہوگا۔ خواتین کو ڈھال بنا کر قانون سے نہیں بچا جا سکتا اور دہشت گردی کا جواب صنفی تفریق سے بالاتر ہو کر قانون کے مطابق ہی دیا جائے گا۔

Disclaimer: The opinions expressed in this article are solely those of the author. They do not represent the views, beliefs, or policies of KhabarKada.

🖨 Print📄 PDF

Related

Latest

تاریخی حقائق بمقابلہ بے بنیاد دعوے: مشرف حسین سید کا اسامہ بن لادن سے متعلق بیان

سینئر سیاستدان مشرف حسین سید کا ایک ویڈیو کلپ سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ “پاکستان نے سی آئی اے کے کہنے پر اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کی تربیت کی تھی۔” تاہم، تاریخی ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے تو یہ دعویٰ مختلف ادوار اور نیٹ ورکس کو ملا کر ایک ایسا بیانیہ بناتا ہے جس کی کوئی تاریخی تصدیق نہیں ہوتی。

Read More »

آپریشن ردالفتنہ 3: کیچ مزابند میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی، ایک دہشتگرد ہلاک

خبر کدا ویب ڈیکس: بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری ہیں۔ ضلع کیچ کے علاقے مزابند رینج میں سیکیورٹی فورسز نے مصدقہ اطلاعات کی بنیاد پر ایک اہم کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الہندوستان کے ایک دہشتگرد کو ہلاک کر دیا ہے۔

Read More »

ایک ہی سٹیج، ایک ہی سکرپٹ: جنیوا میں پی ٹی ایم اور بی این ایم کا اتحاد بے نقاب

خبر کدا ویب ڈیکس: بین الاقوامی فورمز پر سامنے آنے والی حالیہ پیش رفت نے ریاست مخالف عناصر کے درمیان گہرے روابط کو مکمل طور پر بے نقاب کر دیا ہے، جب پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنما منظور پشتین نے جنیوا میں بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کی کانفرنس میں شرکت کی اور خطاب کیا۔

Read More »