
سیاست میں اختلافِ رائے، تنقید اور اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانا جمہوری عمل کا ایک لازمی اور فطری حصہ ہے۔ تاہم، جب سیاسی بیانیہ حقائق سے لاتعلق ہو کر محض جذباتی نعرے بازی اور ریاست مخالف فریم ورک پر مبنی ہو جائے، تو وہ حل کے بجائے مزید انارکی کو جنم دیتا ہے۔ حال ہی میں پختونخوا ملی عوامی پارٹی (PkMAP) کے چیئرمین محمود خان اچکزئی کی جانب سے کراچی پریس کلب میں دی جانے والی طویل تقریر بھی اسی رجحان کی ایک کڑی ہے، جس میں تاریخی شکوک و شبہات، مذہبی حوالے اور سیاسی مطالبات کو ایک ایسے انداز میں گڈمڈ کیا گیا جو زمینی حقائق سے یکسر دور ہے۔
محمود خان اچکزئی پاکستان کے ایک طویل عرصے سے پارلیمانی سیاست کا حصہ رہنے والے سیاستدان ہیں جنہوں نے دہائیوں تک انتخابات میں حصہ لیا اور ملک کے سیاسی نظام کے اندر رہ کر اقتدار اور حزب اختلاف کے ایوانوں میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کا کراچی پریس کلب جیسے نمایاں پلیٹ فارم پر کھڑے ہو کر اتنی سخت اور بے باک تنقید کرنا اس بات کا سب سے بڑا اور ناقابلِ تردید ثبوت ہے کہ ملک میں سیاسی آزادیِ اظہار اور تنقید کی کتنی گنجائش موجود ہے۔ اگر واقعی یہاں کلیدی استبداد یا نوآبادیاتی غلامی کا راج ہوتا، تو اس طرح کی تقاریر سرِعام ممکن ہی نہ ہوتیں۔
جہاں تک آئین کی بالادستی، پارلیمانی خودمختاری اور تمام جماعتوں کے اتحاد (APC) کے مطالبات کا تعلق ہے، یہ سراسر جائز سیاسی مطالبات ہیں جن پر جمہوری اور آئینی دائرے میں رہتے ہوئے بحث اور جدوجہد کی جا سکتی ہے۔ لیکن اکیسویں صدی کے اس دور میں پختون، بلوچ اور سندھی عوام کو “نوآبادیاتی غلامی” میں جکڑا ہوا قرار دینا ایک ایسی مبالغہ آرائی ہے جو ملک کے آئینی ڈھانچے، صوبائی اسمبلیوں، عدالتوں اور بار بار منعقد ہونے والے انتخابی عمل کا صریحاً انکار ہے۔
اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان کو گورننس، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور مرکز اور صوبوں کے مابین تعلقات کے حوالے سے سنگین نوعیت کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ مگر یہ تمام مسائل سیاسی نوعیت کے ہیں جن کے حل کے لیے سیاسی اور جمہوری راستے ہی کارآمد ہو سکتے ہیں، نہ کہ ریاست کے انہدام یا ناگزیر شکست و ریخت کی پیشگوئیاں کرنا۔ برطانوی راج کے خلاف کی جانے والی تاریخی مزاحمت کے حوالے دینا اس حقیقت کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے کہ آج کا آزاد پاکستان اپنے شہریوں اور سیاستدانوں کو وہ آئینی اور قانونی میکانزم فراہم کرتا ہے جس کے ذریعے وہ پرامن اور قانونی جدوجہد جاری رکھ سکتے ہیں۔
حقیقی حقوق، وسائل کی فراہمی اور صوبائی خودمختاری کے مسائل پارلیمنٹ کے ایوانوں، آئین کی پاسداری اور مسلسل جمہوری جدوجہد کے ذریعے ہی حل ہو سکتے ہیں، نہ کہ ایسی تقاریر کے ذریعے جو پورے نظام کو مسمار اور غیر قانونی ثابت کرنے پر تلی ہوں۔ داخلی سیاسی اختلافات اور پالیسی کے اختلافات کو وجودی نوعیت کی نوآبادیاتی غاسبانہ تسلط کے طور پر پیش کرنے کی کوششیں نہ تو حقائق کی کسوٹی پر پورا اترتی ہیں اور نہ ہی ان سے عوام یا خطے کا کوئی بھلا ہو سکتا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ جذباتیت سے نکل کر آئینی دائرے میں رہتے ہوئے عملی مسائل کا حل تلاش کیا جائے۔



