
خبر کدا ویب ڈیسک: حکومت بلوچستان کی جانب سے بارہا مذاکرات کی پیشکش کے باوجود عملی طور پر میز سے فرار اختیار کرنے والی ماہرنگ لانگو کے حوالے سے ان کی بہن کا یہ دعویٰ کہ انہوں نے کبھی مذاکرات سے انکار نہیں کیا، زمینی حقائق کے بالکل برعکس ہے۔ سیاسی و انتظامی حلقوں نے اس بیانیے کو سراسر منافقت اور حقیقت سے فرار قرار دیا ہے۔
ریکارڈ کے مطابق، ماہرنگ لانگو نے متعدد مواقع پر حکومتِ بلوچستان کے ساتھ سنجیدہ مذاکراتی عمل میں شامل ہونے سے گریز کیا اور بات چیت کے دروازے خود بند کیے۔ ان کا یہ رویہ صرف مذاکرات سے فرار تک محدود نہیں رہا، بلکہ وہ پاکستان کے آئین، قانون اور ریاستی تشخص کے خلاف بھی انتہائی سخت اور توہین آمیز زبان استعمال کرتی رہی ہیں۔
تحقیقاتی اور سکیورٹی رپورٹس یہ بتاتی ہیں کہ ماہرنگ لانگو کی سرگرمیوں اور بیانیے نے بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر ان عناصر کو تقویت دی جو ریاست کے خلاف پرتشدد کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ نوجوان نسل کو سیاسی مکالمے اور آئینی راستوں پر گامزن کرنے کے بجائے ریاست مخالف سرگرمیوں اور ہنگامہ آرائی کی طرف دھکیلنا کسی بھی صحت مند جمہوری یا سیاسی جدوجہد کا حصہ نہیں ہو سکتا۔
حکومتِ بلوچستان نے ہر مرحلے پر سیاسی مسائل کے حل کے لیے دروازے کھلے رکھے اور مذاکرات کا راستہ اپنایا، لیکن اس کے جواب میں ہمیشہ مزاحمت، تصادم اور انارکی کے ایجنڈے کو ہوا دی گئی۔ نادیہ بلوچ کا حالیہ بیان دراصل اس طویل ماضی پر پردہ ڈالنے کی ایک بھونڈی کوشش ہے جس میں مکالمے کو ٹھکرا کر تصادم کی راہ چنی گئی۔
سیاسی ماہرین کا دوٹوک مؤقف ہے کہ سیاسی اختلافات اور جائز مطالبات کا واحد اور پائیدار حل آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے مکالمے سے ہی ممکن ہے، نہ کہ ریاست مخالف بیانیوں اور تشدد کی پشت پناہی سے۔ آئین کو مسترد کرنے کا یہ رویہ خود اس سیاسی مؤقف کی کمزوری کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔




