
خبر کدا ویب ڈیسک: بلوچستان میں خواتین کو بااختیار بنانا، انہیں معاشی طور پر مستحکم کرنا اور ہنر مندی کے مواقع فراہم کرنا موجودہ صوبائی حکومت کے سرفہرست اہداف ہیں۔ صوبائی وزیر برائے ترقیِ نسواں ڈاکٹر روبابہ خان بُلاڈی نے ‘ہم نیوز’ کو دیے گئے ایک تفصیلی انٹرویو میں واضح کیا ہے کہ خواتین کی ترقی کے بغیر پائیدار معاشرتی تبدیلی کا خواب ادھورا ہے۔
ڈاکٹر روبابہ بُلاڈی نے انٹرویو کے دوران حکومتی حکمت عملی کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ترقیِ نسواں کا پورا ڈھانچہ چار بنیادی ستونوں پر استوار ہے، جن میں معاشی خود کفالت، تحفظ کا احساس، جامع جینڈر پالیسیاں اور صنفی لحاظ سے حساس خدمات کی فراہمی شامل ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد خواتین کو عملی طور پر معاشرے کا فعال بازو بنانا ہے۔
معاشی میدان میں خواتین کو اگلی صفوں میں لانے کے لیے ویمن اینڈومنٹ فنڈ، خصوصی انٹرپرینیورشپ پروگرامز اور جدید ویمن مارکیٹس کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ دور دراز اور پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والی ملازمت پیشہ خواتین کو رہائش کی بہترین سہولت دینے کے لیے ورکنگ ویمن ہاسٹلز فعال کیے گئے ہیں، جبکہ ورکنگ مدرز کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈے کیئر سینٹرز قائم کیے گئے ہیں تاکہ بچوں کی پرورش اور غذائیت کا تسلسل برقرار رہے۔
صوبائی وزیر نے انکشاف کیا کہ صوبے میں صنفی برابری کا درست اندازہ لگانے کے لیے پہلی جامع ‘جینڈر پیرٹی رپورٹ’ تیار کی جا چکی ہے، جسے مستقبل کی پالیسی سازی کے لیے ایک رہنما کمپاس کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ویمن مارکیٹس کے تحت خواتین کو کاروبار کے لیے رعایتی سہولیات، بینکنگ، صحت کی بنیادی سہولیات اور مکمل محفوظ ماحول فراہم کیا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر روبابہ بُلاڈی نے پُرعزم لہجے میں کہا کہ تعلیم، قابلیت اور ہنر ہی خواتین کا اصل سرمایہ اور طاقت ہیں، کیونکہ ایک بااختیار خاتون پورے خاندان اور معاشرے کی مضبوطی کی ضمانت ہوتی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان کی بیٹیاں ہی اس خطے کا روشن مستقبل ہیں، اور ریاستی سطح پر ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے تمام ممکنہ دروازے کھلے رکھے گئے ہیں۔کو مضبوط بناتی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خواتین ہی بلوچستان کا روشن مستقبل ہیں، اور حکومت ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے تمام ممکنہ مواقع فراہم کرتی رہے گی۔




