اٹلانٹک کونسلکا انکشاف: طالبان حکومت میں افغانستان دہشت گردی کا گڑھ بن چکا ہے

Listen to this article Ready to play
00:00 --:--
Voice is generated privately by your browser. No audio file is downloaded.

اٹلانٹک کونسل کی حالیہ رپورٹ نے اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے کہ طالبان کی زیرِ قیادت افغانستان خطے اور دنیا کے لیے دہشت گردی کا سب سے بڑا مرکز بن چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت کی دہشت گرد گروہوں کو روکنے میں ناکامی خطے کا سب سے بڑا انسدادِ دہشت گردی چیلنج بن گئی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ رجیم اپنے زیرِ کنٹرول علاقے کو محفوظ بنانے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔

دشت گردوں کی پشت پناہی اور محفوظ پناہ گاہیں

طالبان کی سرپرستی نے عسکریت پسند تنظیموں کے لیے ایک سازگار ماحول فراہم کر دیا ہے۔ افغان-پاکستان خطے میں سرگرم بیشتر دہشت گرد گروہوں کے ساتھ طالبان کے گہرے اتحاد موجود ہیں۔ طالبان کی حکمرانی عسکریت پسندوں کو زندہ رہنے، خود کو منظم کرنے اور پھیلنے کے لیے محفوظ پناہ گاہیں اور آپریٹنگ اسپیس فراہم کر رہی ہے۔

القاعدہ کی بحالی اور عالمی خطرہ

طالبان کے اقتدار میں واپسی نے کمزور پڑتے ہوئے دہشت گرد نیٹ ورکس کو دوبارہ پنپنے کے لیے وقت، آزادی اور پناہ فراہم کی ہے۔ یہی وہ حالات ہیں جن کی وجہ سے ماضی میں القاعدہ ایک بین الاقوامی خطرے کے طور پر ابھری تھی، اور اب وہی ماحول دوبارہ تشکیل پا رہا ہے۔ اسی طرح، ٹی ٹی پی (TTP) طالبان کی سب سے خطرناک اتحادی ہے جو افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ حملوں کے لیے ایک لانچ پیڈ کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

داعش (IS-K) اور بین الاقوامی وسعت

طالبان کی فوجی مہمات کے باوجود داعش خراسان (IS-K) بدستور سرگرم ہے۔ یہ گروہ نہ صرف افغانستان کے اندر کارروائیاں کر رہا ہے بلکہ غیر حکومتی علاقوں کو بھرتی اور تربیت کے لیے استعمال کر رہا ہے، جہاں وسطی ایشیائی ریاستوں کے نوجوانوں کو بھی بھرتی کیا جا رہا ہے۔ اس خطرے کی بین الاقوامی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ تاجکستان سے تعلق رکھنے والے داعش کے بھرتی شدہ افراد یورپ، فلپائن اور امریکہ میں حملوں اور سازشوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ایغور عسکریت پسند گروپ (ETIM) بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ افغانستان میں موجود نیٹ ورکس کے عزائم صرف مقامی نہیں بلکہ وسطی ایشیا اور مغربی چین تک پھیلے ہوئے ہیں۔

علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے خطرہ

افغانستان کی اس صورتحال نے وسطی ایشیائی ریاستوں اور پاکستان سمیت پورے خطے کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی مانیٹرنگ رپورٹس نے بارہا افغانستان میں متعدد دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی کی تصدیق کی ہے۔ طالبان کے یہ دعوے کہ انہوں نے ملک میں امن قائم کر لیا ہے، القاعدہ، ٹی ٹی پی، داعش اور دیگر انتہا پسند نیٹ ورکس کی موجودگی کے سامنے بالکل بے وزن ہو جاتے ہیں۔

نتیجہ

طالبان حکومت افغانستان میں دہشت گردی کے مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس کا بنیادی حصہ ہے۔ ان کی سرپرستی، پالیسیوں اور دہشت گردی کو روکنے میں ناکامی کی وجہ سے افغانستان خطے اور پوری دنیا کے لیے دہشت گردی، عسکریت پسندوں کی تربیت اور فنڈنگ کا مرکز بن چکا ہے۔ عالمی برادری اور خطے کے ممالک کے لیے ضروری ہے کہ اس سنگین خطرے کا ادراک کریں کیونکہ دہشت گردوں کو دی جانے والی یہ آزادی مستقبل میں پوری دنیا کے لیے ایک ناسور بن سکتی ہے۔

Disclaimer: The opinions expressed in this article are solely those of the author. They do not represent the views, beliefs, or policies of KhabarKada.

🖨 Print📄 PDF

Related

Latest

تاریخی حقائق بمقابلہ بے بنیاد دعوے: مشرف حسین سید کا اسامہ بن لادن سے متعلق بیان

سینئر سیاستدان مشرف حسین سید کا ایک ویڈیو کلپ سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ “پاکستان نے سی آئی اے کے کہنے پر اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کی تربیت کی تھی۔” تاہم، تاریخی ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے تو یہ دعویٰ مختلف ادوار اور نیٹ ورکس کو ملا کر ایک ایسا بیانیہ بناتا ہے جس کی کوئی تاریخی تصدیق نہیں ہوتی。

Read More »

آپریشن ردالفتنہ 3: کیچ مزابند میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی، ایک دہشتگرد ہلاک

خبر کدا ویب ڈیکس: بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری ہیں۔ ضلع کیچ کے علاقے مزابند رینج میں سیکیورٹی فورسز نے مصدقہ اطلاعات کی بنیاد پر ایک اہم کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الہندوستان کے ایک دہشتگرد کو ہلاک کر دیا ہے۔

Read More »

ایک ہی سٹیج، ایک ہی سکرپٹ: جنیوا میں پی ٹی ایم اور بی این ایم کا اتحاد بے نقاب

خبر کدا ویب ڈیکس: بین الاقوامی فورمز پر سامنے آنے والی حالیہ پیش رفت نے ریاست مخالف عناصر کے درمیان گہرے روابط کو مکمل طور پر بے نقاب کر دیا ہے، جب پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنما منظور پشتین نے جنیوا میں بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کی کانفرنس میں شرکت کی اور خطاب کیا۔

Read More »