
خبرکدا ویب ڈیکس: ڈی آئی خان کے علاقے درازندہ میں ڈی آئی خان اور کوئٹہ روڈ پر واقع امن میلہ پولیس چیک پوسٹ پر فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کی طرف سے ایک طاقتور خودکش وی بی آئی ای ڈی (VBIED) حملے کے نتیجے میں 11 افراد شہید جبکہ 30 سے زائد زخمی ہو گئے۔
اطلاعات کے مطابق بارود سے لدی گاڑی چیک پوسٹ سے ٹکرائی گئی، جس کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں، کسٹم حکام اور شہریوں سمیت متعدد افراد جاں بحق ہوئے۔ واقعے کے بعد ریسکیو 1122 کی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچیں اور امدادی کارروائیاں کرتے ہوئے زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دہشت گردی کے اس بزدلانہ واقعے کے بعد جاری کردہ بیانات اور اہم حقائق درج ذیل ہیں:
- انسانیت سوز جرم: خوارج کی طرف سے کیے جانے والے ان اندھا دھند حملوں میں سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ ساتھ عام شہریوں، خواتین اور بچوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، جو ان کی بربریت کا واضح ثبوت ہے۔ قرآنِ کریم کا فرمان ہے: “جس نے کسی انسان کو قتل کیا… تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا۔” (سورۃ المائدہ: 32)
- خودکش حملوں کی حرمت: شریعتِ مطہرہ میں خودکش حملوں کی قطعی طور پر ممانعت ہے، اور خوارج کا مذہب اور اسلامی تعلیمات کی دھجیاں اڑاتے ہوئے خودکش بمباروں کا استعمال ان کے دائرہ اسلام سے دوری کو واضح کرتا ہے۔
- ریاست کا غیر متزلزل عزم: ریاستی اداروں نے دوٹوک مؤقف اپنایا ہے کہ پاکستان کے امن کو خراب کرنے، دہشت گردی پھیلانے اور اس کے سہولت کاروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ دشمن عناصر کے ملک کو غیر مستحکم کرنے کے تمام ناپاک عزائم کو ناکام بنایا جائے گا۔




