
خبرکدا ویب ڈیکس: وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) کے 81 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ افغانستان کی سرزمین تاحال پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ افغان حکام اس صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور دہشت گرد گروہوں کے خلاف ٹھوس اقدامات کریں۔
خطاب کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
- دہشت گردی اور افغان سرزمین: وزیراعظم نے کہا کہ کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) اور کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) افغانستان کے اندر موجود محفوظ پناہ گاہوں کو پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے افغان حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ سختی سے یقینی بنائے کہ افغان سرزمین پاکستان یا کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہو۔
- پاکستان کی قربانیاں: وزیراعظم نے یاد دلایا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے تقریباً 1 لاکھ جانیں قربان کی ہیں اور معیشت کو 150 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
- دریائے سندھ آبی معاہدہ (Indus Waters Treaty): وزیراعظم نے خبردار کیا کہ پاکستان کے پانی کے حصے کو روکنے یا موڑنے کی کسی بھی کوشش کو “جنگ کے مترادف” سمجھا جائے گا۔
- کشمیر اور فلسطین: انہوں نے مسئلہ کشمیر پر دوٹوک مؤقف دہراتے ہوئے کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی حمایت جاری رکھنے کا عزم کیا اور غزہ و مشرق وسطیٰ کے مسائل پر عالمی برادری کی خاموشی پر تنقید کی۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے سائیڈ لائنز پر ملاقات میں بھی وزیراعظم نے افغان سرزمین سے بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے خطرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔




