
خبرکدا ویب ڈیکس : بلوچستان کے علاقے دُکی (ناناصاحب زیارت اور پلڑی) میں ایک کنسٹرکشن کمپنی کے کیمپ پر کالعدم تنظیم بی ایل اے (BLA) کا حملہ اس گروپ کی مجرمانہ اور دہشت گردانہ سوچ کا ایک اور واضح ثبوت ہے۔ اس پرتشدد کارروائی نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ یہ گروہ ریاست کے ساتھ ساتھ عام عوام، معاشی ترقی اور صوبے کے روشن مستقبل کا دشمن ہے۔
واقعے اور اس کے محرکات کے اہم پہلو درج ذیل ہیں:
- جانی نقصان اور اغوا: حملے کے نتیجے میں ایک سیکیورٹی گارڈ شہید اور دو افراد زخمی ہوئے، جبکہ کیمپ سے 11 مزدوروں کو اغوا کر لیا گیا۔
- شناخت کی بنیاد پر دہشت گردی: اغوا کیے گئے تمام مزدوروں کا تعلق پنجاب سے ہے۔ دہشت گردوں کی جانب سے مزدوروں کے شناختی کارڈ چیک کرنے کا عمل اس بات کا غماز ہے کہ یہ منظم طریقے سے “شناخت پر مبنی دہشت گردی” کی ایک سنگین شکل ہے۔
- ترقیاتی منصوبوں پر حملہ: کیمپ میں موجود تعمیراتی مشینری کو نذرِ آتش کرنا اس امر کا ثبوت ہے کہ دہشت گردوں کا اصل ہدف صرف افراد نہیں بلکہ خطے میں جاری ترقیاتی منصوبے، معاشی سرگرمیاں اور خوشحالی کو روکنا ہے۔
- بی ایل اے اور ٹی ٹی پی گٹھ جوڑ: دُکی اور شمالی بلوچستان میں بی ایل اے اور ٹی ٹی پی (TTP) کی سرگرمیوں کا ایک ہی جغرافیائی ماحول میں سامنے آنا دونوں دہشت گرد گروہوں کے درمیان ممکنہ تعاون اور باہمی سہولت کاری کے سوال کو انتہائی اہم بنا دیتا ہے۔ نظریاتی اختلافات کے باوجود ریاست مخالف تشدد ان کا مشترکہ ایجنڈا ہے۔
- عوام کے درمیان خلیج پیدا کرنے کی ناکام کوشش: بی ایل اے کا یہ تشدد دراصل بلوچستان کے عوام اور پاکستان کے دیگر حصوں سے تعلق رکھنے والے محنت کشوں کے مابین نفرت اور تقسیم پیدا کرنے کی ایک گھناؤنی سازش ہے۔
دُکی کا یہ اندوہناک واقعہ ایک بار پھر واضح کرتا ہے کہ دہشت گردوں کا مقصد عوام کی خدمت کرنا نہیں بلکہ خوف کی فضا پیدا کر کے ریاست کی رِٹ کو چیلنج کرنا اور بلوچستان کو ترقی کے سفر سے محروم کرنا ہے۔




