کوئٹہ سے تربت کا فضائی سفر: کیا بلوچستان فائنلی ترقی کی اڑان بھرنے کو تیار ہے؟

بلوچستان کے طویل اور دشوار گزار راستوں پر سفر کرنا کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں رہا۔ کوئٹہ سے تربت، پنجگور یا ژوب جانے کا مطلب تھا ہڈیوں کو توڑ دینے والا درجنوں گھنٹوں کا سفر، خستہ حال سڑکیں اور مسلسل ذہنی تھکن۔ لیکن گزشتہ روز جب گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے کوئٹہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ساؤتھ ایئرلائن کی کوئٹہ-تربت پہلی ڈومیسٹک فلائٹ کا افتتاح کیا، تو یہ صرف ایک ہوائی جہاز کی اڑان نہیں تھی، بلکہ یہ بلوچستان کے لوگوں کے لیے ایک بہت بڑے ریلیف کا آغاز ہے۔

یہ قدم محض ایک ٹریول سہولت نہیں ہے، بلکہ اس کے پیچھے معاشی، سماجی اور نفسیاتی اثرات چھپے ہیں۔ آئیے اس فیصلے کا ایک گہرائی سے جائزہ لیتے ہیں۔

1. سڑکوں کے عذاب سے آسمان کا سکون

بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، جہاں فاصلے لامتناہی ہیں۔ کوئٹہ سے تربت کا زمینی فاصلہ طے کرنے میں پورا دن یا رات نکل جاتی ہے۔

  • وقت کی بچت: جو سفر پہلے 15 سے 18 گھنٹوں کی تھکن لاتا تھا، اب وہ محض ایک سے ڈیڑھ گھنٹے میں سمٹ جائے گا۔
  • حفاظت اور ذہنی سکون: بلوچستان کے ہائی ویز پر حادثات اور سیکیورٹی کے خدشات ہمیشہ مسافروں کے سر پر سوار رہتے ہیں۔ ہوائی سفر پبلک کو ایک محفوظ اور پرسکون متبادل فراہم کرے گا۔

2. معاشی ترقی کا نیا گیٹ وے

کنیکٹیویٹی (connectivity) ہی کسی بھی علاقے کی معیشت کی شہ رگ ہوتی ہے۔ تربت، مکران ڈویژن کا ایک اہم معاشی مرکز ہے جو سی پیک (CPEC) اور گوادر کے قریب ہونے کی وجہ سے اہمیت رکھتا ہے۔

  • بزنس اور سرمایہ کاری: جب تک تاجروں، ڈویلپرز اور سرکاری نمائندوں کے لیے سفر آسان نہیں ہوگا، تب تک بلوچستان میں سرمایہ کاری لانا مشکل رہے گا۔ یہ فلائٹ بزنس ٹریول کو تیز کرے گی۔
  • ایجوکیشن اور ہیلتھ ایمرجنسی: تربت یا پنجگور کے کسی طالب علم کو کوئٹہ یونیورسٹی آنا ہو، یا کسی مریض کو ایمرجنسی میں علاج کے لیے کوئٹہ یا کراچی جانا ہو، یہ فضائی رابطہ ان کے لیے لائف سیور ثابت ہوگا۔

اصل چیلنج اب شروع ہوتا ہے:

پروازیں شروع کرنا ایک الگ بات ہے، لیکن انہیں مستقل، سستا اور پبلک کی پہنچ میں رکھنا اصل چیلنج ہے۔ اگر ٹکٹ کی قیمتیں ایک عام شہری کی جیب پر بھاری پڑیں، تو اس سروس کا فائدہ صرف مخصوص طبقے تک محدود رہ جائے گا۔

3. ژوب، پنجگور اور آگے کا ویژن: کیا یہ پائیدار رہے گا؟

گورنر جعفر خان مندوخیل اور وزیرِ تعلیم راحیلہ حمید خان درانی کا یہ عزم کہ ژوب اور پنجگور کو بھی بہت جلد اس نیٹ ورک کا حصہ بنایا جائے گا، انتہائی خوش آئند ہے۔ لیکن اس خواب کو حقیقت بنانے کے لیے چند اہم چیزوں پر کام کرنا ہوگا:

چیلنجحل کی ضرورت
ٹکٹ کی قیمتیں (Affordability)عام عوام کے لیے سبسڈی یا کم کرائے متعارف کروانا تاکہ مڈل کلاس بھی فائدہ اٹھا سکے۔
فلائٹ شیڈول کی پابندیپروازوں کی تاخیر (delays) کو روکنا تاکہ پبلک کا بھروسہ قائم رہے۔
انفراسٹرکچر کی بحالیژوب اور پنجگور کے چھوٹے ایئرپورٹس کو جدید تقاضوں کے مطابق اپ گریڈ کرنا۔

آخری بات: امید کا ایک نیا سورج

بلوچستان کے عوام طویل عرصے سے بنیادی سہولیات سے محروم رہے ہیں، اور کنیکٹیویٹی ان کا سب سے بڑا مسئلہ رہا ہے۔ پہلی فلائٹ کا فل بک جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں کے لوگ تبدیلی اور آسانی کے کتنے پیاسے ہیں۔

اگر حکومت، سول ایوی ایشن اور ساؤتھ ایئرلائن مل کر اس سروس کو پائیدار اور سستا بنانے میں کامیاب ہو گئے، تو یہ فیصلہ بلوچستان کی تاریخ میں ایک گیم چینجر ثابت ہوگا۔ اب وقت آگیا ہے کہ بلوچستان اب پسماندگی کی گرد جھاڑ کر بلندی کی طرف اڑان بھرے۔

Trending