
خبر کدا ویب ڈیکس: بین الاقوامی فورمز پر سامنے آنے والی حالیہ پیش رفت نے ریاست مخالف عناصر کے درمیان گہرے روابط کو مکمل طور پر بے نقاب کر دیا ہے، جب پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنما منظور پشتین نے جنیوا میں بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کی کانفرنس میں شرکت کی اور خطاب کیا۔
اگرچہ اس گٹھ جوڑ کو انسانی حقوق کی وکالت کا نام دیا جا رہا ہے، لیکن سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اشتراک محض کسی مکالمے کا حصہ نہیں بلکہ ایک باقاعدہ ہکتی اتحاد ہے، جس کا مقصد ریاست کے آئینی ڈھانچے کو چیلنج کرنا ہے۔
اہم نکات اور تجزیہ
- علاقائی اور نسلی ہم آہنگی: جہاں بی این ایم جنوب مغرب میں علیحدگی پسندانہ نظریات کی حامل ہے، وہیں پی ٹی ایم شمال میں ریاست کی رٹ کو چیلنج کرتی ہے۔ ایک ہی سٹیج پر ان کا اکٹھے ہونا ایک ایسا کراس ایتھনিক بیانیہ بناتا ہے جس کا مقصد اندرونی مسائل کو بین الاقوامی سطح پر اچھالنا ہے۔
- آئین سے انکار: جنیوا ان عناصر کے لیے ایک آسان میٹنگ پوائنٹ بن چکا ہے جو ملک کے آئینی ڈھانچے کو مسترد کرتے ہیں، اور ایسے بیانیے کو فروغ دینے کے لیے غیر ملکی سرزمین کا استعمال کرتے ہیں جو اندرون ملک کوئی پذیرائی حاصل نہیں کر پاتے۔
- دوغلا پن (اندرون بمقابلہ بیرون ملک): مبصرین نوٹ کرتے ہیں کہ ان گروہوں کے طریقۂ کار میں واضح تضاد پایا جاتا ہے—وہ بین الاقوامی سامعین اور انسانی حقوق کے اداروں کے سامنے نرم زبان استعمال کرتے ہیں جبکہ ملک کے اندر ریاست کے خلاف انتہائی سخت رویہ رکھتے ہیں۔
- حکمت عملی کا اتحاد، مستقل ایجنڈا: مختلف جھنڈوں اور الگ الگ علاقائی نعروں کے باوجود ان کا رخ اور مقصد بالکل ایک جیسا ہے؛ یعنی بین الاقوامی پلیٹ فارمز کو استعمال کرتے ہوئے زمینی حقائق اور قانون کی بالادستی کو نظر انداز کر کے ریاست کے خلاف ایک طرفہ پروپیگنڈا کرنا۔



