
سینئر سیاستدان مشرف حسین سید کا ایک ویڈیو کلپ سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ “پاکستان نے سی آئی اے کے کہنے پر اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کی تربیت کی تھی۔” تاہم، تاریخی ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے تو یہ دعویٰ مختلف ادوار اور نیٹ ورکس کو ملا کر ایک ایسا بیانیہ بناتا ہے جس کی کوئی تاریخی تصدیق نہیں ہوتی。
تاریخی حقائق اور سوویت-افغان جنگ کا پس منظر
- امریکہ اور پاکستان کا کردار: یہ ایک دستاویزی حقیقت ہے کہ سوویت-افغان جنگ کے دوران امریکہ نے افغان مزاحمتی گروہوں کو خفیہ امداد دی جبکہ پاکستان اس امداد کی ترسیل کا بنیادی ذریعہ تھا。
- 9/11 کمیشن کی رپورٹ: 9/11 کمیشن کے ریکارڈ کے مطابق پاکستان اور آئی ایس آئی نے افغان مزاحمتی دھڑوں کو ہتھیاروں کی فراہمی اور مدد دی تھی。
- تربیت کا فقدان: اس تسلیم شدہ تعلق سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ پاکستان نے سی آئی اے کی ہدایت پر اسامہ بن لادن یا ایمن الظواہری کی باقاعدہ تربیت کی ہو。
اسامہ بن لادن اور عرب رضاکار نیٹ ورک
- علیحدہ نیٹ ورک: اسامہ بن لادن کا معاملہ مختلف تھا کیونکہ وہ ایک الگ عرب رضاکار نیٹ ورک کے ذریعے سرگرم تھے。
- مکتب الخدمات کا قیام: افغانستان میں ان کی شمولیت عبداللہ عزام کے ساتھ مل کر “مکتب الخدمات” (افغان سروسز بیورو) کے قیام سے ہوئی، جس کا مقصد عرب رضاکاروں کی نقل و حرکت میں مدد دینا تھا。
- نجی فنڈنگ: اس تنظیم کو بنیادی طور پر نجی عرب مالیاتی فنڈنگ حاصل تھی。
- کمیشن کی تصدیق: 9/11 کمیشن کے مطابق اسامہ بن لادن کے ذرائع اور تربیت الگ تھے، اور انہیں امریکہ سے بہت کم یا کوئی مدد نہیں ملی。
ایمن الظواہری اور القاعدہ کا ارتقا
- مختلف پس منظر: مصری اسلامک جہاد کے رہنما ایمن الظواہری مصر کی بنیاد پرست تحریک سے ابھر کر اس ماحول میں آئے تھے。
- آزادانہ شراکت داری: ان کی اور اسامہ بن لادن کی شراکت داری کسی سی آئی اے کے تربیتی پروگرام کے تحت نہیں بلکہ آزادانہ جہادی نیٹ ورکس کے ذریعے پروان چڑھی。
- تنظیمی اتحاد: اس اتحاد میں بن لادن نے مالی وسائل اور رضاکار فراہم کیے جبکہ الظواہری نے مصری تحریک کا تنظیمی اور نظریاتی تجربہ فراہم کیا، جو آگے چل کر القاعدہ کی بنیاد بنا。
نتیجہ
امریکہ اور پاکستان کی تاریخی شراکت داری کو یہ ثابت کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا کہ افغانستان میں موجود ہر غیر ملکی جنگجو کو اسی شراکت داری نے تربیت یا کنٹرول کیا تھا。 پاکستان کے ذریعے افغان مزاحمت کی سہولت کاری ایک ریکارڈ شدہ حقیقت ہے، لیکن اسامہ بن لادن اور الظواہری کی تربیت سے متعلق دعوے کے لیے الگ سے ٹھوس شواہد کی ضرورت ہے جو 9/11 کمیشن کے پاس موجود نہیں ہیں。



