بلوچستان ہائی کورٹ کا کوئٹہ میں ٹریفک نظام بہتر بنانے کا حکم، تجاوزات کے خاتمے کی ہدایت

Listen to this article Ready to play
00:00 --:--
Voice is generated privately by your browser. No audio file is downloaded.

بلوچستان ہائی کورٹ نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ٹریفک کے مسائل، تجاوزات، ناقص شہری منصوبہ بندی اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق معاملات پر سخت احکامات جاری کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو فوری اقدامات کی ہدایت کی ہے۔

چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے ایڈووکیٹ سید نذیر آغا کی جانب سے دائر آئینی درخواست کی سماعت کے دوران یہ احکامات جاری کیے۔

سماعت کے دوران وزیراعلیٰ کوئٹہ ڈویلپمنٹ پیکیج (سی ایم کیو ڈی پی) کے پراجیکٹ ڈائریکٹر محمد رفیق بلوچ نے زرغون روڈ، ریلوے اسٹیشن چوک اور امداد چوک کی ٹریفک کی صورتِ حال سے متعلق تفصیلی رپورٹ اور ویڈیو پریزنٹیشن پیش کی۔

رپورٹ کے مطابق ریلوے اسٹیشن چوک سے روزانہ مصروف اوقات میں تقریباً 9,144 گاڑیاں گزرتی ہیں، جس کے باعث علاقے میں ٹریفک کا دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ سروے کے نتائج سے یہ بات سامنے آئی کہ امداد چوک کے قریب نئے یوٹرن کی تعمیر سے ٹریفک کی روانی بہتر ہونے کے بجائے مزید متاثر ہو سکتی ہے۔

بلوچستان ہائی کورٹ نے متعلقہ حکام کو موجودہ ٹریفک منصوبے کو برقرار رکھنے اور موجودہ یوٹرن کی بہتری پر توجہ دینے کی ہدایت کی۔

عدالت نے زرغون روڈ اور انسکومب روڈ پر نکاسیٔ آب کے نظام کی خراب صورتِ حال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ عدالت کے مطابق نالوں اور ڈرینیج چیمبروں میں تعمیراتی ملبہ، کچرا اور جانوروں کی آلائشیں جمع ہونے کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

عدالت نے زرغون روڈ کے دونوں اطراف تمام غیر قانونی تجاوزات، عارضی دکانوں، کیبنز اور غیر قانونی پارکنگ کے خاتمے کا حکم بھی جاری کیا۔

اسی طرح سیف سٹی منصوبے پر کام کرنے والے حکام کو ہدایت دی گئی کہ نئی تعمیر شدہ سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر کیبلز بچھانے یا بجلی کے کھمبے نصب کرنے کے لیے پیشگی اجازت حاصل کی جائے تاکہ عوامی وسائل کو نقصان سے بچایا جا سکے۔

کوئلہ پھاٹک ریلوے کراسنگ کی توسیع کے منصوبے کے حوالے سے عدالت نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ میٹروپولیٹن کارپوریشن اور پاکستان ریلوے کے درمیان ہونے والے معاہدے پر عمل درآمد شروع ہو چکا ہے اور مطلوبہ ادائیگیاں بھی مکمل کر دی گئی ہیں۔

بلوچستان ہائی کورٹ نے امداد چوک کے قریب فرنٹیئر کور (ایف سی) کی چیک پوسٹ کی وجہ سے پیدا ہونے والی ٹریفک کی صورتِ حال پر بھی تشویش ظاہر کی۔ عدالت نے سریاب سروس روڈ پر جاری کام کی رفتار کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو کام تیز کرنے کی ہدایت کی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بلوچستان ہائی کورٹ کے یہ احکامات کوئٹہ میں ٹریفک کے مسائل کے حل، شہری سہولیات کی بہتری اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہو سکتے ہیں۔

Disclaimer: The opinions expressed in this article are solely those of the author. They do not represent the views, beliefs, or policies of KhabarKada.

🖨 Print📄 PDF

Related

Latest

تاریخی حقائق بمقابلہ بے بنیاد دعوے: مشرف حسین سید کا اسامہ بن لادن سے متعلق بیان

سینئر سیاستدان مشرف حسین سید کا ایک ویڈیو کلپ سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ “پاکستان نے سی آئی اے کے کہنے پر اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کی تربیت کی تھی۔” تاہم، تاریخی ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے تو یہ دعویٰ مختلف ادوار اور نیٹ ورکس کو ملا کر ایک ایسا بیانیہ بناتا ہے جس کی کوئی تاریخی تصدیق نہیں ہوتی。

Read More »

آپریشن ردالفتنہ 3: کیچ مزابند میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی، ایک دہشتگرد ہلاک

خبر کدا ویب ڈیکس: بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری ہیں۔ ضلع کیچ کے علاقے مزابند رینج میں سیکیورٹی فورسز نے مصدقہ اطلاعات کی بنیاد پر ایک اہم کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الہندوستان کے ایک دہشتگرد کو ہلاک کر دیا ہے۔

Read More »

ایک ہی سٹیج، ایک ہی سکرپٹ: جنیوا میں پی ٹی ایم اور بی این ایم کا اتحاد بے نقاب

خبر کدا ویب ڈیکس: بین الاقوامی فورمز پر سامنے آنے والی حالیہ پیش رفت نے ریاست مخالف عناصر کے درمیان گہرے روابط کو مکمل طور پر بے نقاب کر دیا ہے، جب پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنما منظور پشتین نے جنیوا میں بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کی کانفرنس میں شرکت کی اور خطاب کیا۔

Read More »