بلوچستان ہائی کورٹ کا کوئٹہ میں ٹریفک نظام بہتر بنانے کا حکم، تجاوزات کے خاتمے کی ہدایت

بلوچستان ہائی کورٹ نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ٹریفک کے مسائل، تجاوزات، ناقص شہری منصوبہ بندی اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق معاملات پر سخت احکامات جاری کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو فوری اقدامات کی ہدایت کی ہے۔

چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے ایڈووکیٹ سید نذیر آغا کی جانب سے دائر آئینی درخواست کی سماعت کے دوران یہ احکامات جاری کیے۔

سماعت کے دوران وزیراعلیٰ کوئٹہ ڈویلپمنٹ پیکیج (سی ایم کیو ڈی پی) کے پراجیکٹ ڈائریکٹر محمد رفیق بلوچ نے زرغون روڈ، ریلوے اسٹیشن چوک اور امداد چوک کی ٹریفک کی صورتِ حال سے متعلق تفصیلی رپورٹ اور ویڈیو پریزنٹیشن پیش کی۔

رپورٹ کے مطابق ریلوے اسٹیشن چوک سے روزانہ مصروف اوقات میں تقریباً 9,144 گاڑیاں گزرتی ہیں، جس کے باعث علاقے میں ٹریفک کا دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ سروے کے نتائج سے یہ بات سامنے آئی کہ امداد چوک کے قریب نئے یوٹرن کی تعمیر سے ٹریفک کی روانی بہتر ہونے کے بجائے مزید متاثر ہو سکتی ہے۔

بلوچستان ہائی کورٹ نے متعلقہ حکام کو موجودہ ٹریفک منصوبے کو برقرار رکھنے اور موجودہ یوٹرن کی بہتری پر توجہ دینے کی ہدایت کی۔

عدالت نے زرغون روڈ اور انسکومب روڈ پر نکاسیٔ آب کے نظام کی خراب صورتِ حال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ عدالت کے مطابق نالوں اور ڈرینیج چیمبروں میں تعمیراتی ملبہ، کچرا اور جانوروں کی آلائشیں جمع ہونے کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

عدالت نے زرغون روڈ کے دونوں اطراف تمام غیر قانونی تجاوزات، عارضی دکانوں، کیبنز اور غیر قانونی پارکنگ کے خاتمے کا حکم بھی جاری کیا۔

اسی طرح سیف سٹی منصوبے پر کام کرنے والے حکام کو ہدایت دی گئی کہ نئی تعمیر شدہ سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر کیبلز بچھانے یا بجلی کے کھمبے نصب کرنے کے لیے پیشگی اجازت حاصل کی جائے تاکہ عوامی وسائل کو نقصان سے بچایا جا سکے۔

کوئلہ پھاٹک ریلوے کراسنگ کی توسیع کے منصوبے کے حوالے سے عدالت نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ میٹروپولیٹن کارپوریشن اور پاکستان ریلوے کے درمیان ہونے والے معاہدے پر عمل درآمد شروع ہو چکا ہے اور مطلوبہ ادائیگیاں بھی مکمل کر دی گئی ہیں۔

بلوچستان ہائی کورٹ نے امداد چوک کے قریب فرنٹیئر کور (ایف سی) کی چیک پوسٹ کی وجہ سے پیدا ہونے والی ٹریفک کی صورتِ حال پر بھی تشویش ظاہر کی۔ عدالت نے سریاب سروس روڈ پر جاری کام کی رفتار کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو کام تیز کرنے کی ہدایت کی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بلوچستان ہائی کورٹ کے یہ احکامات کوئٹہ میں ٹریفک کے مسائل کے حل، شہری سہولیات کی بہتری اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہو سکتے ہیں۔

Trending