بلوچستان ہائی کورٹ نے بار کونسل رولز میں کی گئی ترامیم کالعدم قرار دیتے ہوئے قانون کے تمام متاثرہ طلبہ اور امیدواروں کے لیے نئے انٹرویوز کا حکم دے دیا۔

بلوچستان ہائی کورٹ (بی ایچ سی) نے ایک اہم فیصلے میں بلوچستان بار کونسل رولز میں کی گئی متنازع ترامیم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ان تمام امیدواروں کے لیے دوبارہ انٹرویو لینے کا حکم جاری کیا ہے جن کے وکالت کے لائسنس متنازع طریقۂ کار کے تحت جاری کیے گئے تھے۔

پانچ رکنی بینچ نے متفقہ طور پر قرار دیا کہ بلوچستان بار کونسل کی جانب سے اختیار کیا گیا انٹرویو کا طریقہ کار قانون کے مطابق نہیں تھا۔ عدالت نے واضح کیا کہ ان غیر قانونی انٹرویوز کی بنیاد پر جاری کیے گئے وکالت کے لائسنس برقرار نہیں رہ سکتے۔

چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل کی سربراہی میں قائم اکثریتی بینچ نے آئینی درخواست نمبر 471/2026 منظور کرتے ہوئے قرار دیا کہ یہ ترامیم آئینِ پاکستان اور “لیگل پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسلز ایکٹ 1973ء” سے مطابقت نہیں رکھتیں۔

ہائی کورٹ نے حکم دیا کہ تمام متاثرہ امیدوار مجاز قانونی کمیٹی کے سامنے دوبارہ انٹرویو دیں۔ عدالت نے مزید ہدایت کی کہ یہ پورا عمل “لیگل پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسلز ایکٹ 1973ء” اور بار کونسل کے متعلقہ قواعد و ضوابط کے مطابق مکمل کیا جائے۔

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ کامیاب امیدواروں کو تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد ہی وکالت کے لائسنس جاری کیے جائیں گے، جن میں قانون کے تحت لازمی تربیتی مدت (اپرنٹس شپ) بھی شامل ہے۔

اس فیصلے کو بلوچستان کی قانونی برادری کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جو آئینی اصولوں کی پاسداری اور وکلا کے اندراج کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

Trending