بلوچستان میں صحافت: خوف، دہشت گردی اور حقائق کی جنگ

Listen to this article Ready to play
00:00 --:--
Voice is generated privately by your browser. No audio file is downloaded.

کوئٹہ: بلوچستان میں صحافت کے شعبے سے وابستہ سینئر صحافیوں کا کہنا ہے کہ صوبے کی صورتحال کو صرف ایک زاویے سے دیکھنا زمینی حقائق کے منافی ہے، کیونکہ یہاں صحافت کا کام نہ صرف مشکل بلکہ جان لیوا بھی ثابت ہوا ہے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک پوسٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ 2008ء سے اب تک بلوچستان میں 42 صحافی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اس تناظر میں متعدد صحافیوں نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان میں رپورٹنگ کے دوران صحافیوں کو مختلف نوعیت کے خطرات کا سامنا رہتا ہے۔

سینئر صحافیوں کے مطابق، بلوچستان میں کئی برسوں کے دوران ایسے متعدد واقعات پیش آئے جن میں عام شہریوں، مزدوروں اور مسافروں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ اسکولوں، پلوں، سڑکوں، ریلوے ٹریکس اور بجلی کی تنصیبات سمیت عوامی بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔

صحافیوں کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات کی رپورٹنگ ہمیشہ ایک کڑا امتحان رہی ہے، کیونکہ خوف اور تشدد کے ماحول میں آزادانہ اور غیر جانبدارانہ انداز میں حقائق سامنے لانا آسان نہیں ہوتا۔

ان کا مؤقف ہے کہ صحافیوں کو درپیش خطرات کا تذکرہ ضرور ہونا چاہیے، تاہم ان عوامل کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے جو اظہارِ رائے کی آزادی کو محدود کرتے ہیں اور اختلافِ رائے رکھنے والوں کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں۔

سینئر صحافیوں نے اس بات پر زور دیا کہ صحافت کا بنیادی اصول تمام متاثرین کی آواز کو یکساں اہمیت دینا ہے، چاہے ان کا تعلق کسی بھی طبقے سے ہو۔ ان کے مطابق، بلوچستان کو ایسے بیانیے کی ضرورت ہے جو حقائق، قانون کی حکمرانی اور دیرپا امن کے قیام کو فروغ دے۔

ماہرین کے مطابق، متوازن اور ذمہ دار صحافت ہی وہ راستہ ہے جو صوبے کی پیچیدہ صورتحال کو بہتر انداز میں دنیا کے سامنے پیش کر سکتی ہے۔

Disclaimer: The opinions expressed in this article are solely those of the author. They do not represent the views, beliefs, or policies of KhabarKada.

🖨 Print📄 PDF

Related

Latest

تاریخی حقائق بمقابلہ بے بنیاد دعوے: مشرف حسین سید کا اسامہ بن لادن سے متعلق بیان

سینئر سیاستدان مشرف حسین سید کا ایک ویڈیو کلپ سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ “پاکستان نے سی آئی اے کے کہنے پر اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کی تربیت کی تھی۔” تاہم، تاریخی ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے تو یہ دعویٰ مختلف ادوار اور نیٹ ورکس کو ملا کر ایک ایسا بیانیہ بناتا ہے جس کی کوئی تاریخی تصدیق نہیں ہوتی。

Read More »

آپریشن ردالفتنہ 3: کیچ مزابند میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی، ایک دہشتگرد ہلاک

خبر کدا ویب ڈیکس: بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری ہیں۔ ضلع کیچ کے علاقے مزابند رینج میں سیکیورٹی فورسز نے مصدقہ اطلاعات کی بنیاد پر ایک اہم کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الہندوستان کے ایک دہشتگرد کو ہلاک کر دیا ہے۔

Read More »

ایک ہی سٹیج، ایک ہی سکرپٹ: جنیوا میں پی ٹی ایم اور بی این ایم کا اتحاد بے نقاب

خبر کدا ویب ڈیکس: بین الاقوامی فورمز پر سامنے آنے والی حالیہ پیش رفت نے ریاست مخالف عناصر کے درمیان گہرے روابط کو مکمل طور پر بے نقاب کر دیا ہے، جب پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنما منظور پشتین نے جنیوا میں بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کی کانفرنس میں شرکت کی اور خطاب کیا۔

Read More »