بلوچستان ایک طویل عرصے سے دہشت گردی، تخریب کاری اور عدم استحکام کا شکار رہا ہے۔ بدقسمتی سے حالیہ مہینوں میں عام شہریوں، مسافر گاڑیوں، ٹرانسپورٹ کے شعبے اور اہم شاہراہوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف انسانی جانوں کو خطرات لاحق ہوئے ہیں بلکہ صوبے کی معاشی اور سماجی سرگرمیاں بھی شدید متاثر ہوئی ہیں۔

شاہراہوں پر دہشت گردی کے حالیہ واقعات
6 اگست 2026 کو سوراب اور قلات کے درمیان کوئٹہ سے کراچی جانے والی ایک مسافر کوچ کو مسلح دہشت گردوں نے روک لیا۔ اطلاعات کے مطابق کوچ کو زبردستی کیسنڈون کے علاقے کی طرف لے جایا گیا، جبکہ ڈرائیور اور کنڈیکٹر کو بھی اغوا کر لیا گیا۔ یہ واقعہ اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ دہشت گرد عناصر اپنی کارروائیوں کے ذریعے عام شہریوں میں خوف و ہراس پھیلانا چاہتے ہیں۔
یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل:
- 31 جولائی 2026: خضدار کے قریب پیشک کراس کے مقام پر مسافر کوچوں پر فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں ایک ڈرائیور زخمی ہوا اور درجنوں مسافروں کی جانیں خطرے میں پڑ گئیں۔
- 1 اگست 2026: کچھی کے علاقے میں قومی شاہراہ N-65 پر ایک اور مسافر کوچ پر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں ایک شہری جاں بحق اور ایک زخمی ہو گیا۔
یہ تمام واقعات ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔ جب دہشت گرد عام مسافروں، ڈرائیوروں، تاجروں اور مزدوروں کو نشانہ بناتے ہیں تو اس کا مقصد صرف چند افراد کو نقصان پہنچانا نہیں ہوتا بلکہ پورے معاشرے میں خوف پیدا کرنا اور روزمرہ زندگی کے معمولات کو درہم برہم کرنا ہوتا ہے۔
معاشی و سماجی اثرات: روزمرہ زندگی کی ناکہ بندی
بلوچستان کی معیشت کا ایک بڑا حصہ شاہراہوں، نقل و حمل اور بین الصوبائی تجارت سے وابستہ ہے۔ اگر شاہراہیں غیر محفوظ ہو جائیں تو:
- کاروباری سرگرمیاں: تجارتی مال کی نقل و حمل رک جاتی ہے اور تاجر برادری کا نقصان ہوتا ہے۔
- عوامی مشکلات: دور دراز علاقوں میں رہنے والے ہزاروں افراد کی زندگی اور سفر انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔
- سرمایہ کاری پر اثر: بیرونی و ملکی سرمایہ کاری کے مواقع کم ہو جاتے ہیں اور جاری ترقیاتی منصوبوں کی رفتار سست پڑ جاتی ہے۔
بیانیے اور عمل کا تضاد: عوام کا حقیقی نمائندہ کون؟
ان حملوں سے یہ بات بالکل واضح ہوتی ہے کہ دہشت گرد تنظیموں کے دعوے اور ان کے اقدامات ایک دوسرے سے بالکُل متضاد ہیں۔
“اگر کوئی گروہ عوامی نمائندگی یا حقوق کا دعویٰ کرتا ہے لیکن اسی وقت عام شہریوں، مزدوروں، ڈرائیوروں اور تاجروں کو نشانہ بناتا ہے، تو اس کے اقدامات خود اس کے دعووں کی نفی کرتے ہیں۔“
اپنے ہی محنت کش عوام اور بے گناہ مسافروں کو خون میں نہلا کر کسی حقوق کی جدوجہد کا جواز نہیں دیا جا سکتا۔
پائیدار حل: اتحاد، تعلیم اور ترقی
بلوچستان کے عوام نے ہمیشہ امن، استحکام اور ترقی کو ترجیح دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف عوامی شعور میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ:
- ریاستی ادارے اور انتظامیہ: شاہراہوں اور مسافروں کی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔
- سول سوسائٹی اور عوام: ایسے تمام عناصر کے خلاف متحد ہو کر ان کے منفی ایجنڈے کو ناکام بنائیں۔
آج بلوچستان کو مزید تقسیم، نفرت اور تشدد کی نہیں بلکہ اتحاد، تعلیم، روزگار، سرمایہ کاری اور پائیدار ترقی کی ضرورت ہے۔ مسافر کوچوں پر حملے درحقیقت صرف چند گاڑیوں پر حملے نہیں بلکہ بلوچستان کے مستقبل، اس کی معیشت اور اس کے عوام کے پُرامن طرزِ زندگی پر حملے ہیں۔
وقت آ گیا ہے کہ ایسے اقدامات کی کھل کر مذمت کی جائے اور اس حقیقت کو تسلیم کیا جائے کہ بلوچستان کے حقیقی نمائندے وہ لوگ ہیں جو امن، ترقی اور خوش حالی کی بات کرتے ہیں، نہ کہ وہ عناصر جو خوف اور تشدد کو اپنے مقاصد کا ذریعہ بناتے ہیں۔
