سانحہ سول ہسپتال کوئٹہ کو 10 سال مکمل: حکومتِ بلوچستان کا شہداء کو لازوال قربانیوں پر خراجِ عقیدت

اگست 2016 کو پیش آنے والے دلخراش ‘سانحہ سول ہسپتال کوئٹہ’ کو 10 سال مکمل ہونے پر حکومتِ بلوچستان اور محکمہ اطلاعات (DGPR) کی جانب سے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے خاص پوسٹر اور پیغام جاری کیا گیا ہے۔

حکومتِ بلوچستان نے اس موقع پر اپنے پیغام میں اس واقعے کو “تاریخ کا ایک المناک باب” قرار دیتے ہوئے کہا کہ “ایک دہائی گزرنے کے بعد بھی یہ ایک لازوال یاد ہے، اور شہداء کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔”

سانحے کا پس منظر: 8 اگست 2016 کی صبح بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر بلال انور کاسی کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان کی میت کوئٹہ کے سینڈیمن سول ہسپتال لائی گئی، جہاں تعزیت اور احتجاج کے لیے وکلاء، صحافیوں اور شہریوں کی بڑی تعداد جمع ہو گئی۔ اسی اثناء میں ایک خودکش حملہ آور نے ایمرجنسی وارڈ کے باہر خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔

بھاری جانی نقصان :اس المناک سانحے میں 70 سے زائد افراد شہید ہوئے، جن میں بلوچستان کے 50 سے زائد نامور سینئر وکلاء اور 2 صحافی بھی شامل تھے۔ اس واقعے نے بلوچستان کی قانون دان برادری کو ایک ہی دن میں قیادت کی بڑی اور ناقابلِ تلافی کمی سے دوچار کر دیا تھا۔

آج کی دسویں برسی کے موقع پر کوئٹہ سمیت صوبے بھر میں وکلاء برادری اور سول سوسائٹی کی جانب سے شہداء کی یاد میں تعزیتی اجتماعات اور قرآن خوانی کا اہتمام کیا جا رہا ہے، جس میں ان کے درجات کی بلندی اور ملک میں امن و امان کی بقا کے لیے دعائیں کی جا رہی ہیں۔

Trending