تربت/گوادر (خبر کدا خصوصی رپورٹ): نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیم ‘پانک’ (Paank) کی جانب سے شائع کردہ حالیہ رپورٹ میں ایک انتہائی ناتجربہ کارانہ اور فاش غلطی سامنے آئی ہے، جس نے رپورٹ کے باقاعدہ من گھڑت اور جعلی ہونے کے پول کھول دیے ہیں۔

رپورٹ کے کھلے تضادات:
• غیر منطقی تاریخیں: پانک کے جاری کردہ بیان کے مطابق 18 سالہ سبزل بلوچ کو 25 جولائی 2026 کو گوادر اور تربت کے درمیانی علاقے ‘ٹلار’ چیک پوسٹ سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔
• واقعات کا الٹا تسلسل: اسی رپورٹ کے اگلے ہی جملے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سبزل بلوچ کی گولیوں سے چھلنی لاش 1 اپریل 2026 کو گوادر کے علاقے پالَیری سے برآمد ہوئی!
• سنگین تضاد: انسانی عقل اور تقویم (Calendar) سے آری اس رپورٹ کے مطابق، لاش مبینہ جبری گمشدگی کی تاریخ سے پونے چار ماہ قبل ہی برآمد ہو چکی تھی!
بیانیے کی ناکامی:
واقعات کی اس ناممکن ترتیب اور واضح تضاد نے ثابت کر دیا ہے کہ سیکیورٹی اداروں کو بدنام کرنے کے لیے بنائی جانے والی رپورٹس بغیر کسی تصدیق اور حقائق کے سرسری طور پر گھڑی جاتی ہیں۔ انسانی حقوق کا نام استعمال ک




