اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کا تفصیلی طبی معائنہ مکمل کر لیا گیا ہے، جس کے بعد پمز ہسپتال کے میڈیکل بورڈ نے انہیں طبی لحاظ سے بالکل فٹ قرار دے دیا ہے۔

خبر کے اہم نکات:
عدالتی احکامات کی تعمیل: حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں عمران خان کے تفصیلی طبی معائنے کے تمام انتظامات کیے، جس کے لیے مختلف شعبوں کے ماہر ڈاکٹرز کو طلب کیا گیا۔
الشفا سے پمز منتقلی کی وجہ: ابتدائی طور پر الشفا انٹرنیشنل ہسپتال میں معائنے کا پروگرام بنایا گیا تھا۔ تاہم ہسپتال کے باہر میڈیا، سیاسی کارکنوں اور دیگر افراد کے رش کے باعث سیکیورٹی اور انتظامی خدشات پیدا ہوئے۔ بہتر اور محفوظ ماحول کی فراہمی کے لیے معائنہ پمز (PIMS) ہسپتال منتقل کیا گیا۔
ماہرین پر مشتمل میڈیکل بورڈ: پمز میں ماہر امراضِ قلب، ماہر امراضِ چشم، فزیشن اور دیگر شعبہ جات کے سینئر ڈاکٹرز نے عمران خان کا مکمل اور تفصیلی طبی معائنہ کیا۔
خاندانی موجودگی و تعاون: معائنے کے مختلف مراحل کے دوران ان کی ہمشیرہ عظمیٰ خان بھی موجود تھیں۔ میڈیکل ذرائع کے مطابق عمران خان نے طبی عملے اور ڈاکٹروں کے ساتھ مکمل تعاون کیا اور ان کی عمومی صحت تسلی بخش رہی۔
حکومتی و طبی موقف:
حکام کا کہنا ہے کہ زیرِ حراست افراد کا سرکاری ہسپتالوں میں طبی معائنہ ایک مروجہ قانونی طریقہ کار ہے۔ پمز ہسپتال میں تمام جدید طبی سہولیات اور ماہرین موجود ہیں جہاں معائنے کے بعد تمام افواہوں اور خدشات کی تردید ہو گئی ہے۔



