
بیرونِ ملک مقیم بعض مزاحمتی گروپس اور لابی عناصر اکثر نواب اکبر بگٹی اور “جبری گمشدگیوں” کے بیانیے کا سہارا لے کر اپنا سیاسی و معاشی فریم ورک قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن اگر 26 اگست 2006ء کے واقعات اور اس کے بعد کے حالات کا غیر جانبدارانہ تجزیہ کیا جائے، تو بلوچستان کی زمینی حقیقت اس یکطرفہ پراپیگنڈے سے بالکل مختلف نظر آتی ہے۔
26 اگست 2006ء: ترتانی کا واقعہ اور بنیادی سوالات
26 اگست 2006ء کو نواب اکبر بگٹی ڈیرہ بگٹی کے علاقے ترتانی کے پہاڑی سلسلے میں مسلح افراد کے ساتھ موجود تھے اور ریاست کے خلاف مسلح مزاحمت کی قیادت کر رہے تھے۔ جب سیکیورٹی فورسز کو ان کی موجودگی کی اطلاع ملی تو علاقے کو گھیرا گیا اور انہیں آئینی و قانونی دائرے میں ہتھیار ڈالنے اور سرنڈر کرنے کا موقع دیا گیا۔ ریاست کی جانب سے یہ یقین دہانی بھی کرائی گئی کہ ہتھیار ڈالنے والوں کے ساتھ رعایت کی جائے گی۔
- مذاکرات کی پیشکش: نواب بگٹی کی جانب سے مثبت اشارہ ملنے پر ریاستی اداروں نے فوری طور پر ڈاکٹرز اور دیگر ضروری انتظامات کیے، جبکہ اعلیٰ عسکری افسران خود مذاکرات کے لیے موقع پر پہنچے۔
- غار کا پراسرار دھماکہ: اکبر بگٹی نے اپنے ساتھ موجود تقریباً 35 مسلح افراد کو باہر جا کر سرنڈر کرنے کی ہدایت کی اور عسکری افسران کو غار کے اندر بلا لیا۔ جیسے ہی افسران مذاکرات کے لیے غار کے اندر داخل ہوئے، وہاں ایک شدید دھماکہ ہوا جس سے پوری غار منہدم ہو گئی۔ اس واقعے میں نواب بگٹی کے ساتھ ساتھ مذاکرات کے لیے جانے والے عسکری افسران بھی شہید ہو گئے۔
اس سانحے کو بنیاد بنا کر جو عناصر ریاست کے خلاف بیانیہ بناتے ہیں، ان سے یہ بنیادی سوال پوچھا جانا چاہیے کہ اس واقعے کی اصل ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ کیا نواب بگٹی نے خود مسلح تصادم کا راستہ منتخب کر کے اپنی اور دیگر افسران کی جان کو خطرے میں نہیں ڈالا؟
عسکریت پسندی اور ففتھ جنریشن وار کا تسلسل
نواب اکبر بگٹی اپنی تقریروں اور اقدامات میں ریاست کے خلاف مسلح جنگ کا ذکر کرتے تھے۔ آج بلوچستان میں جو دہشت گردی کی لہر نظر آتی ہے، وہ اسی پرتشدد سوچ اور راستے کا تسلسل ہے، جسے اب مختلف شکلوں میں ففتھ جنریشن وار (5th Generation Warfare) کے تحت ریاست کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
- براہمداغ بگٹی اور BRA کا عسکری نیٹ ورک: نواب بگٹی کے بعد ان کے پوتے براہمداغ بگٹی نے بلوچ ریپبلکن آرمی (BRA) تشکیل دی، جو آگے چل کر “براس” (BRAS) جیسے کالعدم عسکری اتحاد کا حصہ بنی۔ اس نیٹ ورک نے سیکیورٹی فورسز، معصوم مزدوروں، اور غیر ملکی سرمایہ کاروں (بشمول چینی شہریوں) کو نشانہ بنایا۔
- معاشی ترقی کی راہ میں رکاوٹ: سوئی گیس کی تنصیبات، ریلوے لائنز، ٹرانسپورٹ اور اسکولوں کو دھماکوں سے اڑانا حقوق کی جنگ نہیں، بلکہ بلوچ عوام کو روزگار، تعلیم اور بنیادی سہولیات سے محروم رکھنے کی ایک منظم کوشش ہے۔
“لاپتہ افراد” کے بیانیے کی اصل حقیقت
انسانی حقوق اور لاپتہ افراد کی فہرستوں کو اکثر کالعدم تنظیموں اور دیاسپورہ لابی کی جانب سے پراپیگنڈا ٹول کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
| پراپیگنڈا بیانیہ | زمینی حقیقت |
| “تمام افراد مظلوم اور لاپتہ ہیں” | ان میں سے متعدد افراد زیرِ زمین کالعدم تنظیموں میں شامل ہو چکے ہیں، بیرونِ ملک روپوش ہیں یا فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں مارے جا چکے ہیں۔ |
| “کوئی قانونی طریقہ موجود نہیں” | مستند اور واقعی مقدمات کے حل کے لیے قومی کمیشن برائے لاپتہ افراد اور عدالتی طریقہ کار فعال انداز میں کام کر رہا ہے۔ |
| “سیاسی حقوق کی جنگ” | نوجوانوں کو جذباتی نعروں کے ذریعے ورغلا کر عسکریت پسندی اور تشدد کی بھٹی میں جھونکا جاتا ہے۔ |
بلوچ عوام کا فیصلہ: آئین، جمہوریت اور ترقی
بلوچستان کی غیور عوام کی بھاری اکثریت نے اس پرتشدد اور عسکری راستے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔
عام بلوچ شہری جمہوری عمل، بلدیاتی اور عام انتخابات میں بھرپور حصہ لیتے ہیں اور اپنے علاقے میں اسکولوں، سڑکوں، اور تجارتی مراکز کے قیام کے خواہش مند ہیں۔ بیرونِ ملک بیٹھ کر تشدد اور انتشار کو فروغ دینے والی تنظیموں کا مقامی آبادی کی فلاح و بہبود سے کوئی تعلق نہیں۔
نتیجہ:
26 اگست 2006ء کا واقعہ ہو یا موجودہ سیکیورٹی صورتحال، حقیقت یہی ہے کہ بندوق اور ففتھ جنریشن وار کے پراپیگنڈے نے بلوچستان کو صرف پسماندگی دی ہے۔ بلوچستان کا پائیدار مستقبل گولی اور بم دھماکوں میں نہیں، بلکہ آئینِ پاکستان کی پاسداری، جمہوریت، اور معاشی ترقی کے سفر میں مضمر ہے۔



