
کوئٹہ — بلوچستان ریونیو اتھارٹی (بی آر اے) نے ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے ذریعے 19 نئے افسران کی بھرتی کا عمل کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔ کوئٹہ میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے منتخب امیدواروں میں تقرر نامے تقسیم کیے اور میرٹ پر مبنی بھرتی کے عزم کو دہرایا۔
خبر کے اہم نکات
- سیاسی مداخلت کا خاتمہ: وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ پوری بھرتی میں کوئی سیاسی یا انتظامی مداخلت نہیں ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے اپنے حلقے ڈیرہ بگٹی سے کسی امیدوار کا انتخاب نہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ میرٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا۔
- حکومتی پالیسی: تعلیمی شعبے میں 14,500 سے زائد اساتذہ کی شفاف بھرتی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا: “بلوچستان میں کوئی بھی ملازمت فروخت نہیں ہوگی۔“
- خواتین کی شمولیت: میرٹ کی بنیاد پر خواتین افسران کے انتخاب کا بھی خیرمقدم کیا گیا اور اسے سرکاری شعبے کے لیے ایک مثبت پیشرفت قرار دیا گیا۔
- قیادت کی ستائش: شفافیت یقینی بنانے پر صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی اور چیئرپرسن بی آر اے عبداللہ خان نورزئی کی خدمات کو سراہا گیا۔
معاشی استحکام اور بی آر اے کا کردار
“پاکستان ہماری پہچان ہے، اور فرائض کی ادائیگی کے دوران ریاست ہماری پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔”
— میر سرفراز بگٹی، وزیراعلیٰ بلوچستان
وزیراعلیٰ نے زور دیا کہ صوبائی معیشت کو پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے بی آر اے کا کردار انتہائی اہم ہے۔ اس وقت صوبائی وسائل کا بڑا حصہ غیر ترقیاتی اخراجات کی نذر ہو جاتا ہے، اس لیے ریونیو کلیکشن میں اضافہ ضروری ہے تاکہ عام عوام کی فلاح و بہبود کے لیے زیادہ فنڈز دستیاب ہو سکیں۔
نئے افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ آنے والے مالی سال کے لیے مقرر کردہ ریونیو اہداف کو پورا کریں اور صوبے کو معاشی طور پر خودمختار بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔



