
نیوزڈیسک :وفاقی حکومت نے بلوچستان کے اہم ترین شاہراہوں میں شامل کراچی–کوئٹہ–چمن قومی شاہراہ (N-25) کی ڈوئلائزیشن اور بحالی کے منصوبے پر عملدرآمد تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 273 کلومیٹر طویل اس منصوبے کو بلوچستان میں سفری سہولت، تجارتی سرگرمیوں اور معاشی رابطوں کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
N-25 کیا ہے اور کیوں اہم ہے؟
N-25 کراچی کو کوئٹہ سے ملاتے ہوئے چمن اور افغانستان کی سرحد تک جاتی ہے۔ یہ شاہراہ بلوچستان کے مختلف علاقوں کو کراچی سمیت ملک کے دیگر حصوں سے جوڑنے کے ساتھ ساتھ تجارتی مراکز، سرحدی منڈیوں اور آبادیوں کے درمیان اہم رابطہ فراہم کرتی ہے۔
یہ شاہراہ صرف مسافر گاڑیوں کے لیے استعمال نہیں ہوتی بلکہ اس کے ذریعے زرعی اجناس، معدنیات، مویشی، تجارتی سامان اور دیگر ضروری اشیا کی نقل و حمل بھی ہوتی ہے۔
بلوچستان کے وسیع رقبے اور آبادی کے مختلف علاقوں میں پھیلاؤ کے باعث صوبے کے لیے بہتر اور محفوظ سڑکوں کا نیٹ ورک خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ تاہم ماضی میں N-25 کے مختلف حصوں پر ٹریفک کا دباؤ، خطرناک اوورٹیکنگ، سڑک کی خراب حالت اور بھاری ٹریفک حادثات کی بڑی وجوہات میں شامل رہے ہیں۔
ڈوئلائزیشن سے کیا بدلے گا؟
N-25 کی ڈوئلائزیشن کا بنیادی مقصد موجودہ سنگل کیریج وے کو دو طرفہ تقسیم شدہ شاہراہ میں تبدیل کرنا ہے، جہاں مخالف سمتوں کی ٹریفک کے لیے الگ الگ کیریج ویز ہوں گی۔
اس تبدیلی کا سب سے اہم فائدہ سڑکوں پر انسانی جانوں کا تحفظ ہے۔
سنگل روڈ پر مخالف سمت سے آنے والی گاڑیوں کے درمیان تصادم، خطرناک اوورٹیکنگ اور مسافر گاڑیوں و بھاری ٹرکوں کے درمیان حادثات کا خطرہ زیادہ رہتا ہے۔ بہتر اور تقسیم شدہ شاہراہ ٹریفک کے بہاؤ کو منظم کرنے اور سفر کو نسبتاً محفوظ بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔
اس کے علاوہ بہتر سڑک سے سفر کا وقت اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات کم ہونے کی توقع ہے، جس سے بلوچستان سے کراچی اور ملک کے دیگر حصوں تک سامان کی ترسیل مزید آسان ہو سکتی ہے۔
N-25: خطرناک شاہراہ سے معاشی راہداری تک
N-25 منصوبے کی اصل اہمیت صرف سڑک کی تعمیر یا مرمت تک محدود نہیں۔ بہتر رابطہ بلوچستان کی زرعی، معدنی اور تجارتی صلاحیت کو مارکیٹ سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
بلوچستان کے کسانوں کے لیے زرعی پیداوار کو بروقت منڈیوں تک پہنچانا ضروری ہے۔ اسی طرح معدنی شعبے کے لیے قابلِ اعتماد فریٹ رابطہ، تاجروں کے لیے مستقل ٹرانسپورٹ اور صنعتوں کے لیے سپلائی چین تک رسائی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
کراچی کے ساتھ بہتر رابطہ بلوچستان کو پاکستان کی بڑی مارکیٹ، بندرگاہوں اور لاجسٹکس مراکز تک زیادہ مؤثر رسائی فراہم کر سکتا ہے۔
دوسری جانب چمن اور افغانستان کی سرحد تک رابطہ بہتر ہونے سے سرحدی تجارت اور علاقائی تجارتی سرگرمیوں کے لیے بھی نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔
منصوبے پر کتنی لاگت آئے گی؟
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق 273 کلومیٹر طویل N-25 منصوبے کی مجموعی لاگت 183.4 ارب روپے ہے، جبکہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی ترقیاتی پروگرام (PSDP) میں منصوبے کی رفتار تیز کرنے کے لیے 30 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
احسن اقبال نے منصوبے کو بلوچستان میں رابطوں کے فروغ، عوام اور اشیا کی نقل و حرکت میں بہتری اور تجارت و کاروباری سرگرمیوں کے لیے اہم قرار دیا ہے۔
بلوچستان کی معیشت کے لیے ممکنہ اثرات
N-25 کی بہتر اور محفوظ سڑک بلوچستان کے لیے کئی حوالوں سے اہم ثابت ہو سکتی ہے:
- ٹریفک حادثات کے خطرات میں کمی
- سفر کے وقت میں کمی
- مال برداری کے اخراجات میں کمی
- زرعی پیداوار کی منڈیوں تک بہتر رسائی
- معدنی شعبے کے لیے بہتر فریٹ کنیکٹیویٹی
- کراچی کی بندرگاہوں اور بڑی مارکیٹ تک آسان رسائی
- چمن اور افغانستان کے ساتھ تجارتی رابطوں میں بہتری
- کاروبار اور روزگار کے نئے مواقع
ترقی کا راستہ بہتر رابطوں سے گزرتا ہے
بلوچستان کی ترقی پر ہونے والی بحث میں عموماً معدنی وسائل، سیاسی مسائل اور سیکیورٹی چیلنجز زیرِ بحث رہتے ہیں، تاہم انفراسٹرکچر اور رابطہ کاری بھی صوبے کی معاشی ترقی کا ایک اہم عنصر ہے۔
اگر N-25 کی ڈوئلائزیشن منصوبے کے مطابق مکمل ہوتی ہے اور اس کے ساتھ مناسب ٹریفک مینجمنٹ، سڑک کی دیکھ بھال اور تجارتی سہولیات بھی بہتر بنائی جاتی ہیں تو یہ شاہراہ محض ایک سفری راستہ نہیں رہے گی بلکہ بلوچستان کی معاشی سرگرمیوں کی اہم شاہ رگ بن سکتی ہے۔
183.4 ارب روپے کا یہ منصوبہ بلوچستان کے لیے صرف ایک سڑک کی تعمیر نہیں، بلکہ محفوظ سفر، بہتر تجارت، مارکیٹ تک رسائی اور معاشی مواقع کے ایک نئے باب کی بنیاد بن سکتا ہے۔



