
ویب ڈیسک: بلوچستان کے ضلع واشُک کے علاقے پلنتک میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس پر مبنی ایک کامیاب آپریشن (IBO) کے دوران ’فتنہ الہندوستان‘ کے دو خطرناک دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ کارروائی ملک بھر میں جاری ’آپریشن رد الفتنہ‘ کے تحت عمل میں لائی گئی۔
اہم پیشرفت اور برآمدگیاں
- مرکزی ہدف: ہلاک ہونے والے دونوں دہشت گرد مشخیل تھانے اور کسٹمز ہاؤس پر ہونے والے حالیہ بزدلانہ حملوں میں براہِ راست ملوث تھے۔
- گاڑی تباہ و اسلاحہ برآمد: سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کے دوران دہشت گردوں کی گاڑی کو موقع پر تباہ کر دیا اور ان کے قبضہ سے بھاری مقدار میں جدید اسلاحہ اور بارودی مواد برآمد کیا۔
- ٹارگٹ کلنگ کا منصوبہ ناکام: برآمد شدہ اسلاحہ بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ اور دیگر دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔
مشخیل میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات اور فورسز کا جواب
ضلع واشُک کا علاقہ مشخیل اپنے جغرافیائی اور معاشی موقع کی وجہ سے انتہائی اہم ہے۔ دہشت گرد عناصر مسلسل سرکاری تنصیبات اور بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے کی کوششیں کر رہے ہیں:
- 30 اگست کا حملہ ناکام: مسلح افراد نے مشخیل میں پولیس کی تنصیبات اور کسٹمز کے گودام پر حملے کی کوشش کی، جسے فرنٹیئر کور (FC) بلوچستان نے بروقت اور مؤثر جواب دیتے ہوئے ناکام بنا دیا اور حملہ آوروں کو بھاگنے پر مجبور کیا۔
- شہریوں پر بزدلانہ حملے: 12 جولائی کو مشخیل ہی میں مسلح دہشت گردوں نے 5 بے گناہ محنت کش مزدوروں کو فائرنگ کر کے شہید کر دیا تھا۔
صوبے بھر میں انٹیلی جنس آپریشنز میں تیزی
دہشت گردانہ نیٹ ورکس کو تباہ کرنے کے لیے فورسز نے پورے بلوچستان میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز تیز کر دیے ہیں:
- 5 اگست: واشُک اور مستونگ میں دو الگ الگ آپریشنز کے دوران 12 دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔
- 9 اگست: بولان، واشُک، آواران، سبی، خضدار، ہرنائی اور نوشکی سمیت مختلف اضلاع میں کارروائیوں کے دوران 15 دہشت گرد مارے گئے۔
سیکیورٹی ذرائع کا عزم ہے کہ بلوچستان سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے، مقامی برادریوں کے تحفظ اور تجارتی و معاشی راہداریوں کی بحالی تک یہ آپریشنز بلا تعطل جاری رہیں گے۔



