
یومِ دفاع 2026 کے موقع پر ملک بھر میں جہاں 1965 کی جنگ کے عسکری معرکوں کو یاد کیا جا رہا ہے، وہاں قومی سلامتی کے ایک نئے اور جامع تصور کی بنیاد بھی رکھی جا رہی ہے۔ یادگارِ شہداء پر پھول چڑھانے اور وطن کے دفاعی ہیروز کو خراجِ تحسین پیش کرنے کی تقاریب اپنی جگہ، لیکن بلوچستان کے تناظر میں اس سال کا یومِ دفاع ایک واضح فکر کی نشان دہی کرتا ہے: قومی تحفظ کو محض سرحدوں کے دفاع تک محدود نہیں رکھا جا سکتا، بلکہ اسے سماجی استحکام اور معاشی ترقی کا لازمی جزو بنانا ہوگا۔
1965 کے جذبے سے جدید چیلنجز تک کا سفر
وطنِ عزیز کی خودمختاری کا تحفظ صرف ایک وقتی واقعے کا نام نہیں بلکہ یہ مسلسل قربانیوں سے رقم ہونے والی تاریخ ہے۔ بلوچستان میں دفاع کی یہ داستاں سرحدوں پر لڑائی سے آگے بڑھ کر فرنٹیئر کور، لیویز، پولیس اور عدلیہ کی روزمرہ جدوجہد میں نظر آتی ہے۔ چاہے ‘آپریشن المیزان’ جیسے انسدادِ دہشت گردی کے معرکے ہوں یا گوادر کے ساحل کی نگہبانی، اس خطے کے جری افسران اور جوانوں نے ہمیشہ ہراول دستے کے طور پر کام کیا ہے۔
ترقی اور دفاع: پائیدار امن کی بنیاد
اس سال کی سیاسی اور عسکری قیادت نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ معاشی بحالی اور سیکیورٹی کی صورتِ حال ایک دوسرے سے مکمل جڑی ہوئی ہیں:
- وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ملک کی اصل جنگ جہالت، معاشی پس ماندگی اور غربت کے خلاف ہے۔ افواجِ پاکستان کی آپریشنل صلاحیتیں وہ سازگار ماحول فراہم کرتی ہیں جس پر ایک پرامن اور خودکفیل معاشرہ قائم ہوتا ہے۔
- آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کوئٹہ گارنیشن کے دورے کے موقع پر واضح کیا کہ بلوچستان کا امن ہی روزگار کے مواقع، غیر ملکی سرمایہ کاری اور مقامی معیشت کی تقویت کا واحد ذریعہ ہے۔
- صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے تاریخی فتح اور حالیہ عسکری کامیابیوں بشمول ‘آپریشن بنیانٌ مرصوص’ کو قوم کی یکجہتی اور اتحاد کا نتیجہ قرار دیا۔
کوئٹہ میں منعقدہ گول میز کانفرنس “پرعزم اور ابھرتا ہوا پاکستان” کے دوران انتظامیہ اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بھی اس امر کا اعادہ کیا کہ نوجوانوں کی معاشی بااختیاری ہی دیرپا امن کا حقیقی راستہ ہے۔
مختلف شعبہ ہائے زندگی کے شہداء
| ادارہ / شعبہ | نمایاں شہداء | جائے شہادت / تناظر |
| مسلح افواج | کیپٹن عبید اللہ شہید، کیپٹن ضیاء اللہ شہید، سپاہی حمزہ، سپاہی رزاق، لانس نائیک آفتاب احمد سہرانی | سخت ترین آپریشنل حصوں اور اہم قومی شاہراہوں (این-25) کی حفاظت۔ |
| پاکستان نیوی | لیفٹیننٹ کمانڈر حمزہ عابد PN، لیفٹیننٹ کمانڈر جواد شاہ PN، حسنین LUWT PN | ستمبر 2023 میں گوادر کے قریب بحری سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری نبھاتے ہوئے حادثے کا شکار ہوئے۔ |
| فرنٹیئر کور (FC) | شہریار احمد شہید، کیپٹن ضیاء اللہ (134 ونگ)، کیپٹن وقار احمد کاکڑ | زیارت، مندر اور دیگر حساس علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں۔ |
| پولیس و قانون نافذ کرنے والے ادارے | ڈی ایس پی محمد یوسف ریکھی، ڈی ایس پی اجمل ندیم سدوزئی، لیڈی کانسٹیبل ملک ناز، ہیڈ کانسٹیبل سمیع اللہ | خضدار میں لیڈی کانسٹیبل ملک ناز اور ہیڈ کانسٹیبل سمیع اللہ کا ہتھیار ڈالنے سے انکار اور آخری سانس تک مقابلہ۔ |
| عدلیہ | چیف جسٹس (ر) نور محمد مسکان زئی، جسٹس میر محمد نواز مری، جسٹس عبدالحکیم کاکڑ | انصاف کی فراہمی، قانون کی بالادستی اور عدالتی وقار کے تحفظ کے دوران ہدف بنے۔ |
1965 کی معرکہ آرائی میں قیادت کرنے والے جنرل موسیٰ خان سے لے کر خضدار کی سڑکوں پر جامِ شہادت نوش کرنے والی لیڈی کانسٹیبل ملک ناز تک، بلوچستان کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ دفاعِ وطن کی کوئی مخصوص حد نہیں ہوتی۔ سیکیورٹی فورسز ملک کا جغرافیائی دفاع کرتی ہیں، جبکہ تعلیم، یکجہتی اور معاشی مواقع آنے والی نسلوں کا مستقبل محفوظ بناتے ہیں۔



