مستونگ: کھڈ کوچہ میں انسدادِ دہشت گردی آپریشنز اور باغات کے نقصان کے حقائق

Listen to this article Ready to play
00:00 --:--
Voice is generated privately by your browser. No audio file is downloaded.

(ویب ڈیسک): ضلع مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ میں جاری سیکیورٹی فورسز کے آپریشنز اور نجی باغات سے متعلق اہم حقائق سامنے آئے ہیں۔ ذرائع اور حکام نے واضح کیا ہے کہ سیکیورٹی اداروں پر باغات کو جان بوجھ کر نقصان پہنچانے کے الزامات بالکل بے بنیاد ہیں، اور ریاست کی ترجیح علاقے میں پائیدار امن قائم کرنا ہے۔

1. انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز اور حقائق

کھڈ کوچہ میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کیے جانے والے تمام آپریشنز سائنسی اور انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کیے جا رہے ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد دہشت گردوں کے خفیہ ٹھکانوں کو ختم کرنا ہے، نہ کہ عام شہریوں یا ان کے زراعت و باغات کو نقصان پہنچانا۔

2. باغات کا دہشت گردانہ استعمال

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق باغات اور نجی اراضی کو دہشت گردوں نے بارودی سرنگیں (IEDs) بنانے کی فیکٹریوں، اس Weapons Caches (اسلحہ کے ذخائر) اور سیکورٹی فورسز پر فائرنگ کے لیے استعمال کیا ہے۔ دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے کی وجہ سے انسدادِ دہشت گردی کے طے شدہ قوانین کے تحت یہ سائٹس قانونی فوجی ہدف (Legitimate Military Targets) بن جاتی ہیں۔

3. وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کا سخت انتباہ

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے واضح کیا ہے کہ اگر کسی کی نجی ملکیت کو بار بار سیکورٹی فورسز یا سرکاری حکام پر حملوں کے لیے استعمال کیا گیا تو مالکان کو دہشت گردوں کے سہولت کار (Facilitators) کے طور پر دیکھا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ نجی اراضی کو دہشت گردی کا اڈہ بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

4. اسمبلی میں بیان کی وضاحت

بلوچستان اسمبلی میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے باغات کی بلاامتیاز تباہی کے تاثر کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے بیان کو سیاسی مقاصد کے لیے توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا، تاہم انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جن املاک کو دہشت گردی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، انہیں قانونی کارروائی سے تحفظ نہیں دیا جا سکتا۔

5. سہولت کاری اور سیاسی پروپیگنڈا

حکام کے مطابق سیکیورٹی فورسز کے قافلوں، افسران اور عام شہریوں پر مسلسل حملوں کے باوجود جو عناصر اس کلئیرنس آپریشن کی مخالفت کر رہے ہیں، وہ درحقیقت دہشت گردانہ نیٹ ورکس کو سیاسی کور اور سہولت کاری فراہم کر رہے ہیں۔

6. ریاست کی ترجیح: امن اور تحفظ

حکومت اور سیکیورٹی اداروں کی اولین ترجیح مستونگ اور گردونواح کے علاقوں میں طویل المدتی سیکیورٹی کی بحالی ہے تاکہ مقامی کسان، زمیندار اور مزدور دہشت گردوں کے خوف، بھتہ خوری اور فائرنگ کے خطرے کے بغیر اپنی اراضی پر کام کر سکیں۔

Disclaimer: The opinions expressed in this article are solely those of the author. They do not represent the views, beliefs, or policies of KhabarKada.

🖨 Print📄 PDF

Related

Latest

تاریخی حقائق بمقابلہ بے بنیاد دعوے: مشرف حسین سید کا اسامہ بن لادن سے متعلق بیان

سینئر سیاستدان مشرف حسین سید کا ایک ویڈیو کلپ سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ “پاکستان نے سی آئی اے کے کہنے پر اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کی تربیت کی تھی۔” تاہم، تاریخی ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے تو یہ دعویٰ مختلف ادوار اور نیٹ ورکس کو ملا کر ایک ایسا بیانیہ بناتا ہے جس کی کوئی تاریخی تصدیق نہیں ہوتی。

Read More »

آپریشن ردالفتنہ 3: کیچ مزابند میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی، ایک دہشتگرد ہلاک

خبر کدا ویب ڈیکس: بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری ہیں۔ ضلع کیچ کے علاقے مزابند رینج میں سیکیورٹی فورسز نے مصدقہ اطلاعات کی بنیاد پر ایک اہم کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الہندوستان کے ایک دہشتگرد کو ہلاک کر دیا ہے۔

Read More »

ایک ہی سٹیج، ایک ہی سکرپٹ: جنیوا میں پی ٹی ایم اور بی این ایم کا اتحاد بے نقاب

خبر کدا ویب ڈیکس: بین الاقوامی فورمز پر سامنے آنے والی حالیہ پیش رفت نے ریاست مخالف عناصر کے درمیان گہرے روابط کو مکمل طور پر بے نقاب کر دیا ہے، جب پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنما منظور پشتین نے جنیوا میں بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کی کانفرنس میں شرکت کی اور خطاب کیا۔

Read More »