
(ویب ڈیسک) — 61ویں یومِ دفاع و شہداء کے موقع پر 6 September کو پاکستان کی تمام مسلح افواج کی اعلیٰ عسکری قیادت نے وطنِ عزیز کی دفاعی سرحدوں کی نگہبانی کرنے والے شہداء، غازیوں اور ان کے غیور خاندانوں کو بیحد عقیدت اور خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق، ایک اہم مشترکہ پیغام میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر (چیف آف دی آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز)، ایڈمرل نوید اشرف (چیف آف دی نیول اسٹاف)، ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو (چیف آف دی ایئر اسٹاف)، اور جنرل سید عامر رضا (کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ) نے مسلح افواج کی نمائندگی کرتے ہوئے شہداء کی عظیم قربانیوں کو قوم کا فخر قرار دیا۔
1965 کے جذبے اور قومی یکجہتی کی یاد
عسکری قیادت نے 6 September کی تاریخی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ دن پاکستان کی تاریخ میں قومی وحدت، بے مثال شجاعت اور پختہ عزم کی علامت کے طور پر نقش ہے۔ 1965 کی جنگ میں پاکستانی قوم اور مسلح افواج نے جس یکجہتی کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کیا، وہ آج بھی قوم کے جذبے کو جلا بخشتا ہے۔
عسکری چیفس کا کہنا تھا:
“پاکستان کے شہداء نے عزت، فرض شناسی اور قربانی کی وہ عظیم مثالیں قائم کی ہیں جو آنے والی تمام نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ زمینی، فضائی اور بحری سرحدوں پر ہمارے پاسبانوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر کے ملک کا دفاع ناقابلِ تسخیر بنایا۔”
شہداء کے لواحقین اور غازیوں کا اعتراف
پیغام میں بالخصوص شہداء کے خاندانوں کے صبر اور حوصلے کی تعریف کی گئی، جبکہ سرحدوں پر ڈٹے ہوئے غازیوں کی بہادری اور خدمات کو زبردست الفاظ میں سراہا گیا۔ عسکری قیادت نے کہا کہ شہداء کا ہر خاندان اور ہر غازی اس قوم کے لیے سر کا تاج ہے۔
علاقائی امن کی خواہش اور جارحیت پر واضح تنبیہ
پاکستان کی مسلح افواج نے اپنی مکمل آپریشنل تیاری اور جذبے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج ملک کی خودمختاری، جغرافیائی سالمیت اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر دم تیار ہے۔
مسلح افواج کی جانب سے پیغام میں واضح کیا گیا:
“پاکستان خطے میں پائیدار امن، استحکام اور خوشحالی کا حامی ہے اور ہمیشہ ذمہ دارانہ رویے کا مظاہرہ کرتا ہے۔ تاہم، ہماری امن کی خواہش کو ہرگز کمزوری نہ سمجھا جائے۔ اگر پاکستان کی پاک سرزمین کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کی کوشش کی گئی، تو اس کا جواب انتہائی تیز، دندان شکن اور فیصلہ کن ہوگا۔”



