خوارج سے نوخوارج تک: تکفیری فکر کا تسلسل اور اس کا علمی رد

Listen to this article Ready to play
00:00 --:--
Voice is generated privately by your browser. No audio file is downloaded.

اسلام کی روشن اور متوازن تاریخ میں پرتشدد انتہا پسندی اور تکفیر کی سب سے پہلی منظم شکل خوارج کی صورت میں نمودار ہوئی، جو جنگِ صفین اور معاہدہ تحکیم کے بعد امتِ مسلمہ کے مرکزی دھارے سے الگ ہوئے۔ یہ گروہ عبادات، روزوں اور تلاوتِ قرآن میں بہت سخت اور پابند نظر آتا تھا، مگر اس کا دین فہمی کا طریقہ کار سطحی اور شدت پسندانہ تھا۔ نبی کریم ﷺ نے پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ یہ لوگ کثرت سے قرآن پڑھیں گے مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔

خوارج کا سب سے خطرناک عقیدہ یہ تھا کہ ان کے محدود نظریات سے اختلاف کرنے والا ہر شخص، چاہے وہ جلیل القدر صحابی ہی کیوں نہ ہو، کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اسی بنیاد پر انہوں نے باقی تمام مسلمانوں کا خون اور مال اپنے لیے حلال سمجھ لیا، اور بے گناہ افراد کے قتلِ عام کا وحشیانہ جواز تراشا۔ ان کا مرکزی نعرہ “لا حکم الا للہ” تھا، جس کی بنیاد پر انہوں نے ہر قسم کی ثالثی، سفارت کاری اور ریاستی نظم کو یکسر مسترد کر دیا۔ یہی فکری انحراف انہیں اسلامی تاریخ کی پہلی منظم تکفیری دہشت گرد تنظیم بنا گیا، جس نے بالآخر حضرت علی ؓ کو حالِ نماز میں شہید کر دیا۔

حضرت علی ؓ نے نہج البلاغہ کے خطبہ چالیس میں خوارج کے نعرے “لا حکم الا للہ” کو “کلمۃ حق یراد بہا باطل” قرار دیا—ایک سچی بات جس سے باطل ارادہ لیا گیا۔ آپ ؓ نے واضح کیا کہ حتمی حکم اگرچہ اللہ کا ہے، مگر انسانی معاشرے کو اس حکم کے نفاذ، معیشت کے انتظام، دفاع اور کمزوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک حکمران اور مضبوط ریاستی ڈھانچے کی ناگزیر ضرورت ہے۔ خطبہ باسٹھ میں آپ ؓ نے خوارج کو ان منافقین سے ممتاز کیا جو جان بوجھ کر حق کا انکار کرتے ہیں، اور ہدایت دی کہ آپ ؓ کے بعد انہیں انتقاماً قتل نہ کیا جائے—ایک اعلیٰ اخلاقی معیار جو مخالفین کے ارادوں کو پرکھنے کی بصیرت دکھاتا ہے۔

اس علمی رد میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا کردار بھی روشن باب ہے۔ جب تقریباً چھ ہزار خوارج ریاست کے خلاف کھلی بغاوت پر آمادہ ہوئے، تو ابن عباس ؓ نے حضرت علی ؓ سے ان سے براہِ راست مکالمے کی اجازت لی۔ آپ نے ظہر کی نماز مؤخر کی، خوبصورت یمنی لباس پہن کر ان کے سامنے گئے—جو خوارج کی ظاہری خستہ حالی اور خود ساختہ زہد پر ایک خاموش ضرب تھی—اور ان کے تین بنیادی اعتراضات کو قرآن و سنت سے پرزے پرزے کر دیا۔

پہلا اعتراض یہ تھا کہ حضرت علی ؓ نے اللہ کے دین میں انسانوں کو ثالث کیوں بنایا۔ ابن عباس ؓ نے قرآن کی وہ آیات پیش کیں جن میں میاں بیوی کے جھگڑے کے لیے انسانی ثالثی کا حکم دیا گیا ہے۔ دوسرا اعتراض یہ تھا کہ جنگِ جمل میں مالِ غنیمت اور قیدی کیوں نہ بنائے گئے—ابن عباس ؓ نے پوچھا کہ کیا وہ ام المؤمنین حضرت عائشہ ؓ کو قیدی بناتے؟ تیسرا اعتراض “امیر المؤمنین” کا لقب ہٹانے پر تھا، جس کا جواب صلح حدیبیہ کے موقع پر نبی کریم ﷺ کے اپنے ہاتھ سے “رسول اللہ” کے الفاظ مٹانے کی مثال سے دیا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ دو ہزار سے زائد خوارج اپنے گمراہ کن نظریات سے تائب ہو کر ریاستی نظم میں واپس آ گئے۔

تاریخ کا بغور مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ خوارج بحیثیتِ گروہ ختم ہو گئے، مگر ان کی تکفیری ذہنیت ہر اس دور میں سر اٹھاتی رہی جہاں سماجی و سیاسی بحران پیدا ہوئے۔ عصرِ حاضر میں القاعدہ، داعش اور اسی طرز کے گروہ دراصل “نوخوارج” ہیں، جو اسی تاریخی سلسلے کی کڑی ہیں۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ فکری انحراف کا سب سے مؤثر علاج تلوار نہیں بلکہ علم، دلیل اور مکالمہ ہے—جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ نے صدیوں پہلے کر دکھایا۔

Disclaimer: The opinions expressed in this article are solely those of the author. They do not represent the views, beliefs, or policies of KhabarKada.

🖨 Print📄 PDF

Related

Latest

تاریخی حقائق بمقابلہ بے بنیاد دعوے: مشرف حسین سید کا اسامہ بن لادن سے متعلق بیان

سینئر سیاستدان مشرف حسین سید کا ایک ویڈیو کلپ سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ “پاکستان نے سی آئی اے کے کہنے پر اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کی تربیت کی تھی۔” تاہم، تاریخی ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے تو یہ دعویٰ مختلف ادوار اور نیٹ ورکس کو ملا کر ایک ایسا بیانیہ بناتا ہے جس کی کوئی تاریخی تصدیق نہیں ہوتی。

Read More »

آپریشن ردالفتنہ 3: کیچ مزابند میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی، ایک دہشتگرد ہلاک

خبر کدا ویب ڈیکس: بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری ہیں۔ ضلع کیچ کے علاقے مزابند رینج میں سیکیورٹی فورسز نے مصدقہ اطلاعات کی بنیاد پر ایک اہم کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الہندوستان کے ایک دہشتگرد کو ہلاک کر دیا ہے۔

Read More »

ایک ہی سٹیج، ایک ہی سکرپٹ: جنیوا میں پی ٹی ایم اور بی این ایم کا اتحاد بے نقاب

خبر کدا ویب ڈیکس: بین الاقوامی فورمز پر سامنے آنے والی حالیہ پیش رفت نے ریاست مخالف عناصر کے درمیان گہرے روابط کو مکمل طور پر بے نقاب کر دیا ہے، جب پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنما منظور پشتین نے جنیوا میں بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کی کانفرنس میں شرکت کی اور خطاب کیا۔

Read More »