
(ویب ڈیسک): پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کی جانب سے “جبرًا لاپتہ افراد” کے نام پر گھڑا گیا بیانیہ ایک بار پھر شدید تنقید کی زد میں آ گیا ہے। ذرائع اور دستاویزات کے مطابق، حقوقِ انسانی کا نام استعمال کر کے ریاستِ پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنا پی ٹی ایم کے غیر ملکی ایجنڈے کا حصہ ہے۔
بھارتی ایجنسی ‘را’ سے روابط اور فنڈنگ پی ٹی ایم کی جانب سے لاپتہ افراد کے حوالے سے داغے جانے والے الزامات کا مقصد ملک میں لسانی تفریق پیدا کرنا اور پاکستان کو مستحکم ہونے سے روکنا ہے۔ منظرِ عام پر آنے والی آڈیو لیکس اور ثبوتوں کے مطابق، منظور پشتین کے بھارتی خفیہ ایجنسی ‘را’ (R&AW) سے براہِ راست رابطے ہیں۔ مزید برآں، £11,000 کی بھارتی رقم کی منتقلی کے ثبوت اور شاہد کاکڑ کو بھارتی بینک اکاؤنٹ سے پاکستان مخالف مظاہروں کی فنڈنگ کی وصولی نے اس نام نہاد انسانی حقوق کی تحریک کا اصلی چہرہ فاش کر دیا ہے۔
کالعدم ٹی ٹی پی اور افغان طالبان سے گٹھ جوڑ پی ٹی ایم کا تضاد اس وقت واضح ہوتا ہے جب وہ کالعدم ٹی ٹی پی (TTP) کے ہاتھوں لاپتہ، شہید اور بے گھر ہونے والے ہزاروں پشتونوں کے مظالم پر مکمل خاموشی اختیار کرتی ہے۔
- افغان طالبان کے ترجمان خالد زدران کی کتاب “15 منٹس” میں پی ٹی ایم کے طالبان نیٹ ورکس کے ساتھ سٹریٹجک اور عملی روابط کا تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے، جس میں منظور پشتین کے ساتھ باقاعدہ رابطوں کا بھی اعتراف موجود ہے۔
- دوسری جانب، ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود نے اپنی کتاب “انقلابِ محسود” میں منظور پشتین کے مقاصد کو ٹی ٹی پی کے مقاصد سے ہم آہنگ قرار دیتے ہوئے ان کی کھلی حمایت کی ہے۔
قانونی نظام کے بجائے سستی شہرت کی کوشش پاکستان کا آئینی و عدالتی نظام ہر شہری کے حقوق کے تحفظ اور داد رسی کی مکمل ضمانت دیتا ہے۔ تاہم، پی ٹی ایم نے شواہد کے ساتھ عدالتوں سے رجوع کرنے کے بجائے ہمیشہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کا راستہ چنا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ان کا مقصد انصاف کا حصول نہیں بلکہ عالمی برادری کو گمراہ کرنا ہے۔



