
ویب ڈیسک: بلوچستان کے ضلع کیچ میں دہشت گردی کا ایک اور لرزہ خیز واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں مسلح افراد نے رات کی تاریکی میں گھر میں گھس کر 30 سالہ نہتی خاتون کو اغوا کے بعد بے دردی سے قتل کر دیا۔
ذرائع کے مطابق 6 اور 7 ستمبر کی درمیانی رات دہشت گرد تربت کے علاقے کَلاگ میں ایک گھر میں داخل ہوئے اور 30 سالہ مہگُل زوجہ سول محمد کو زبردستی اغوا کر کے لے گئے۔ اگلی صبح تربت یونیورسٹی کے قریب سے ان کی گولیوں سے چھلنی لاش برآمد ہوئی۔
| واقعے کی تفصیلات | معلومات |
|---|---|
| مقتولہ | مہگُل (زوجہ سول محمد)، عمر 30 سال |
| مقامِ اغوا | کَلاگ، تربت (ضلع کیچ) |
| مقامِ برآمدگیِ لاش | نزد تربت یونیورسٹی |
| تاریخ | 6-7 ستمبر 2026 |
عام شہریوں کی سیفٹی اور ماضی کے واقعات
تربت کا یہ واقعہ صوبے میں عام شہریوں پر بڑھتے ہوئے مظالم کی ایک اور کڑی ہے۔ اس سے قبل نوشکی میں بھی بی بی حنیفہ کو ان کی 17 سالہ بیٹی بی بی حفصہ کے ساتھ قتل کیا گیا تھا۔
- گھروں کی حرمت کی پامالی: مسلح گروہوں (BLA/BLF) کی جانب سے عام شہریوں بالخصوص خواتین کو نشانہ بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گردی کا سب سے بڑا شکار مقامي باشندے ہی بن رہے ہیں۔
- انسانی حقوق کی تنظیمی خاموشی: واقعے کے بعد عوامی اور صحافتی حلقوں کی جانب سے سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ شہریوں کے اغوا اور قتل پر انسانی حقوق کی تنظيمیں کیوں خاموش ہیں۔
سیکیورٹی فورسز نے علاقے کی گھیرا بندی کر کے ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ اس سفاکانہ کارروائی میں ملوث عناصر کو جلد از جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔



