
بھارت کی ایما پر کام کرنے والے دہشت گرد گروہ “فتنہ الہندوستان” (بی ایل اے) نے 1 سے 7 ستمبر کے دوران 28 کارروائیوں میں 52 سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادت، چوکیوں پر قبضے اور گاڑیوں کی تباہی کا من گھڑت اور گمراہ کن پروپیگنڈا جاری کیا ہے۔ حقیقت میں، سیکیورٹی فورسز کے جاری آپریشنز میں اٹھائے جانے والے سنگین نقصان کے بعد، یہ بیانیہ محض اپنی ناکامیوں کو چھپانے، بیرونی آقاؤں کو مطمئن کرنے اور اپنے فنڈنگ نیٹ ورک کو بچانے کی ایک ناکام کوشش ہے۔
میدانِ جنگ کے حقائق بمقابلہ دہشت گردوں کا پروپیگنڈا
- زیارت کراس کا واقعہ: 1 ستمبر کو دہشت گردوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے سیکیورٹی، کسٹمز اور کوسٹل پولیس کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے حملہ کامیابی سے ناکام بناتے ہوئے حملہ آوروں کو بھاری جانی نقصان پہنچایا اور فوری سینیٹائزیشن آپریشن شروع کیا۔
- نوک چاہ میں عبرتناک شکست: 31 اگست کو N-40 شاہراہ پر غیر قانونی ناکے کی کوشش پر فورسز نے بھرپور کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الہندوستان (FAH) کے 11 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا اور ان سے بھاری مقدار میں اسلحہ و دھماکہ خیز مواد برآمد کیا۔
- خضدار/کھاڈکوچہ کا پروپیگنڈا: 2 ستمبر کو آئی ای ڈی (IED) کے ذریعے ایم آر اے پی (MRAP) گاڑی کو تباہ کرنے کا جھوٹا دعویٰ کیا گیا۔ حقیقت میں گاڑی مکمل محفوظ رہی اور فورسز نے جوابی کارروائی میں دہشت گردوں کو نشانہ بنایا۔
- TTP اور BLA کا مذموم اتحاد: 3 ستمبر کو زیارت کراس-کچ موڑ کے واقعے میں جہاں ٹی ٹی پی نے ذمہ داری قبول کی، وہیں بی ایل اے نے 18 شہادتوں کا من گھڑت ادعا کیا۔ فورسز نے حملہ ناکام بنا کر 11 دہشت گردوں کو ہلاک کیا اور دونوں گروہوں کے مشترکہ انفارمیشن وارفیئر کو بے نقاب کیا۔
- جھل مگسی میں عوامی اثاثوں کو نقصان: 6 ستمبر کو کوٹرو کے ایک ریسٹ ہاؤس کو نقصان پہنچا کر کامیابی کا سوانگ رچایا گیا۔ فورسز نے فوری طور پر علاقے کا محاصرہ کر کے فرار کے راستے بند کیے اور کلیئرنس آپریشن کا آغاز کیا۔
- ردالفتنہ 3 کے تحت صفایا: 7 ستمبر کو سیکیورٹی فورسز نے بسیمہ (پارہ بیرا) میں 3 اور نوشکی میں آئی بی او (IBO) کے دوران 7 دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔ ‘عملیات ردالفتنہ 3’ کے تحت نوک چاہ اور زیارت کراس کے ہلاک شدگان سمیت ہلاک دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 79 تک جا پہنچی ہے۔
فتنہ الہندوستان: عوامی امن اور ترقی کا اصلی دشمن
رحمت سعید اور شکیل احمد کاتبار جیسے بے گناہ بلوچ شہریوں کو “سہولت کار” کا لیبل لگا کر قتل کرنا فتنہ الہندوستان کے انسانی حقوق دشمن چہرے کو ننگا کرتا ہے۔ ریاست کے ساتھ کھڑے ہونے والے اور دہشت گردی سے انکار کرنے والے شہریوں کا قتل عام محض اپنے خوف کی فضا قائم کرنے کی بزدلانہ کوشش ہے۔
بلوچستان کی شاہراہوں، کان کنی، اور معاشی بنیادی ڈھانچے پر حملے خطے کی معاشی ترقی اور نوجوانوں کے روزگار کو براہِ راست نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ‘عملیات ردالفتنہ 3’ کے تحت ریاست پاکستان اور سیکیورٹی فورسز ان غیر ملکی پراکسیز کے تمام نیٹ ورکس کے مکمل خاتمے تک اپنا بے رحم اور بلاامتیاز آپریشن جاری رکھیں گی۔



