
ویب ڈیسک : کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطا کی زیر صدارت مائنز اینڈ منرل ایکٹ پر عملدرآمد کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے تحت معدنی وسائل کے فروغ اور ریونیو کلیکشن سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران ڈائریکٹر مائنز اینڈ منرل ابراہیم بازئی نے محکمہ کی کارکردگی پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ محکمہ معدنیات صوبے کی معیشت کے لیے ریونیو کلیکشن میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے آگاہ کیا کہ لسبیلہ ڈویژن سے سالانہ 4823.29 ملین روپے کی رائلٹی کی مد میں ریونیو حاصل ہوتا ہے، جبکہ ضلع آواران میں تاحال جیالوجیکل سروے نہیں کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ لسبیلہ ڈویژن تانبا، سیسہ، زنک اور ماربل اسٹون سمیت دیگر قیمتی معدنیات سے مالا مال ایک زرخیز خطہ ہے۔
کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطا نے اس موقع پر واضح کیا کہ انتظامیہ معدنی وسائل کے فروغ اور ان کی صلاحیت کو بھرپور طریقے سے بروئے کار لانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھائے گی۔ انہوں نے محکمہ مائنز اینڈ منرل کے افسران کو ہدایت کی کہ منرل مائننگ ایکٹ 2025 پر اس کی اصل روح کے مطابق عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔
کمشنر لسبیلہ ڈویژن نے سخت احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی طریقے سے کرش پلانٹس چلانے والوں اور غیر رجسٹرڈ مائننگ فرمز کے خلاف فوری اور فیصلہ کن ایکشن لیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی حکم دیا کہ بغیر رائلٹی کے منرل استعمال کرنے والے این ایچ اے (NHA) کنٹریکٹرز کو بھی فوری طور پر نوٹس جاری کیے جائیں۔
اجلاس کے دوران غیر قانونی غفلت کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر نے ایکسپلوزیو ڈیپارٹمنٹ کے افسر کی جائے تعیناتی سے غیر حاضری پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور متعلقہ حکام کو ان کے خلاف فوری ڈسپلنری ایکشن (نکاتی کارروائی) کے احکامات جاری کیے۔
اجلاس کے اختتام پر کمشنر لسبیلہ نے محکمہ مائنز کے افسران کو ہدایت کی کہ وہ کان کنی کے پائیدار اور موثر طریقوں کو ترجیح دیں تاکہ قدرتی وسائل کا شفاف استعمال اور صوبے کی معاشی ترقی کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔



