
کوئٹہ: بلوچستان کے علاقے نوکنڈی میں پیش آنے والے ایک دل دہلا دینے والے واقعے نے پوری بلوچ تہذیب اور سماج کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایک نوجوان آصف بلوچ نے، جسے نام نہاد آزادی اور قوم پرستی کے فریب میں جکڑ کر پہاڑوں پر دھکیلا گیا تھا، اپنے ہی بوڑھے باپ پر بندوق تان دی اور باپ کا سینہ چھلنی کر دیا۔ جب اس باپ نے اپنے بیٹے کو دہشت گردوں کی راہ اختیار کرنے سے روکا تو جواب میں اس کے اپنے خون نے بندوق کے دہانے سے وفا کا یہ خوفناک مفہوم سمجھایا۔
بوڑھے والدین کی خاموش چیخیں اور ندامت کا اظہار
واقعے کے بعد نوکنڈی حملے میں ہلاک ہونے والے آصف بلوچ کے والد نے شدید شرمندگی اور ندامت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان بوڑھے والدین کے چہروں کی جھریوں میں چھپی خاموش چیخیں اس بات کی گواہی دے رہی ہیں کہ کس طرح معصوم نوجوانوں کے ذہنوں کو یرغمال بنایا گیا۔ اس المناک موقع پر ایک باپ کی شکست نے پوری قوم کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا یہی وہ نام نہاد آزادی اور جدوجہد ہے جس کی قیمت معصوم بیٹوں کو اپنے ہی گھرانوں کے خون سے چکانی پڑتی ہے؟
ڈاکٹر اللہ نذر اور دہشت گرد عناصر کے نام نہاد فریب کا مکروہ کھیل
مظلوم والدین اور سماجی حلقوں کی جانب سے شدت پسند رہنما ڈاکٹر اللہ نذر کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کبھی ان بوڑھے والدین کی سسکیاں اور جھریوں میں چھپی چیخیں سننے کی ہمت کرو، جن کے بیٹوں کو ذاتی اقتدار اور سازشی مفادات کی بھٹی میں جھونک دیا گیا۔ یہ عناصر غیر ملکی آقاؤں کی آشیرباد اور فنڈنگ کے بل بوتے پر معصوم ذہنوں کو گمراہ کرتے ہیں، یہاں تک کہ وہ اپنوں کے ہی خون کے پیاسے ہو جاتے ہیں۔
یہ وہ لمحہ ہے جہاں صرف ایک باپ کا دل نہیں چاک ہوا، بلکہ اس واقعے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ یہ نام نہاد جدوجہد دراصل دہشت گردی، اپنوں کے قتل عام اور بلوچستان کے سماجی تانے بانے کو تباہ کرنے کے سوا کچھ نہیں۔ عوام اب ان فریب کار عناصر کے مکروہ چہروں کو اچھی طرح پہچان چکے ہیں جو نوجوانوں کے ہاتھوں میں بندوقیں تھما کر انہیں اپنے ہی گھروں اور بزرگوں کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔



