
خبر کدا ویب ڈیسک: کالعدم اور خارجی دہشتگرد تنظیم فتنہ الہندوستان (بی ایل اے) کا مکروہ چہرہ ایک بار پھر پوری طرح بے نقاب ہو چکا ہے۔ جھوٹے دعوے، معاشی تنصیبات پر حملے، اور غریب مزدوروں کا بہیمانہ قتل اس بات کا بین ثبوت ہے کہ یہ تنظیم بلوچستان کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کی سب سے بڑی دشمن ہے۔
من گھڑت دعوے اور پروپیگنڈا کا پول کھل گیا دہشتگرد تنظیم بی ایل اے نے کیشری-والپٹ کے علاقے میں سکیورٹی فورسز پر حملے کے جھوٹے اور من گھڑت اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے 9 اہلکاروں کی شہادت اور 11 کے زخمی ہونے کا جھوٹا دعویٰ کیا۔ زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے جہاں مادرِ وطن کے دفاع میں 2 جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا جبکہ 6 جوان زخمی ہوئے۔ یہ مضحکہ خیز اعداد و شمار صرف شکست کے بعد بوکھلاہٹ اور سستا پروپیگنڈا جیتنے کی ایک ناکام کوشش ہیں۔
فتنہ الہندوستان کے خلاف سکیورٹی فورسز کی فیصلہ کن کارروائیاں ریاستی اداروں نے فتنہ الہندوستان کے نیٹ ورکس کو نیست و نابود کرنے کے لیے آہنی ہاتھوں سے کارروائیاں جاری رکھی ہیں۔ صرف اگست 2026ء کے دوران انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں 70 سے زائد خارجی دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا گیا، جن میں واشک، مستونگ، پنجگور اور سوراب کے علاقے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ستمبر کے پہلے دو ہفتوں کے دوران ہی بلوچستان بھر میں 80 سے زائد خارجی دہشتگردوں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جا चुका ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھے گی.
جیوانی میں بے گناہ این ایل سی کے سویلین ورکرز کا قتل جیوانی کے مقام پر سویلین ملازمین کو نشانہ بنانے کے بعد بی ایل اے کا یہ دعویٰ کہ انہوں نے سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا، ایک سفید جھوٹ اور ان کے جنگی جرائم پر پردہ ڈالنے کی بھونڈی کوشش ہے۔ کنول شہزاد سمیت چاروں مقتولین این ایل سی کے عام سویلین کارکنان تھے جن کا تعلق کوئٹہ سے تھا۔ ان کی گاڑی کو نذرِ آتش کرنا اور نقد رقم لوٹنا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ تنظیم نام نہاد حقوق کی نہیں بلکہ لوٹ مار، غنڈہ گردی اور معصوم شہریوں کے خون کی پیاسی ہے۔
مشکیل لیتھیم پروجیکٹ پر حملہ: بلوچستان کی معیشت پر براہ راست وار مشکیل کے مقام پر لیتھیم کے منصوبے پر کام کرنے والی گاڑیوں اور ڈرلنگ مشینوں کو تباہ کرنا بی ایل اے کے صریحاً عوام دشمن اور اقتصادی دشمن چہرہ کو ظاہر کرتا ہے۔ مشینری کو جلانا اور سرمایہ کاری کو سبوتاژ کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ دہشتگرد بلوچستان کے نوجوانوں کے روزگار، مقامی کاروبار اور آنے والی نسلوں کے روشن مستقبل کو تاریک کرنا چاہتے ہیں۔
معدنی ترقی اور خوشحالی کے خلاف بیرونی ایجنڈا لیتھیم اور دیگر معدنی پراجیکٹس کو دھمکیاں دینا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بی ایل اے کسی بیرونی ایجنڈے کے تحت صوبے کو پسماندہ رکھنے کی سازش کر رہی ہے۔ یہ عناصر نہیں چاہتے کہ بلوچستان کے عوام کو باعزت روزگار، ہنر، سڑکیں اور تعلیمی سہولیات ملیں۔ ان کا واحد مقصد صوبے کو مفلوج رکھنا ہے۔
ریاست کا عزم: دہشتگردی کے تمام مقاصد خاک میں ملا دیے جائیں گے عوام کے وسائل پر ڈاکو بننے والے یہ دہشتگرد بلوچستان کی تقدیر کا فیصلہ نہیں کر سکتے۔ ریاست اور غیور عوام ان تمام گھناؤنی سازشوں کو ناکام بناتے ہوئے فتنہ الہندوستان کے ان تمام دہشتگردوں کو ان کے انجام تک پہنچائیں گے اور بلوچستان میں امن، ترقی اور قانون کی حکمرانی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔



