
خبر کدا ویب ڈیکس: سوشل میڈیا پر خضدار کے حوالے سے پھیلائی جانے والی ایک اور بے بنیاد اور من گھڑت خبر کا حقیقت پر مبنی رد سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سوشل میڈیا پر یہ افواہ پھیلائی جا رہی تھی کہ 11 ستمبر کو خضدار کے نواحی علاقے میں واقع خاتون گرلز ہائی اسکول سے اللہ بخش کی 16 سالہ بیٹی سدرہ کو اغوا کر لیا گیا ہے۔ ان تمام دعوؤں میں کوئی صداقت نہیں ہے اور یہ محض ایک طرفہ بیانیے کے تحت پھیلایا جانے والا پروپیگنڈا ہے۔
غیر مصدقہ دعوے اور پروپیگنڈے کا پرانا پیٹرن: خفیہ اور حقائق کا جائزہ لینے والے حلقوں کا کہنا ہے کہ اس قسم کے بے بنیاد دعوے بغیر کسی ٹھوس ثبوت یا سرکاری تصدیق کے پھیلائے جا رہے ہیں۔ دشمن عناصر اور بعض مخصوص ہینڈلز کا مقصد صرف دباؤ بڑھانا اور ایک خاص منفی بیانیہ تشکیل دینا ہے۔ اس سے قبل “محل کیس” میں بھی بالکل یہی ہتھکنڈہ استعمال کیا گیا تھا جہاں بغیر کسی تصدیق کے گمشدگی کے الزامات کو ہوا دی گئی تھی۔
“زبردستی گمشدگی” کے نام پر حقائق مسخ کرنے کی کوشش: رپورٹس کے مطابق ہر گمشدگی کے معاملے کو حقائق جانے بغیر زبردستی “لاپتہ افراد” یا جبری گمشدگی کا رنگ دے دیا جاتا ہے، جبکہ اس کے پیچھے ذاتی تنازعات، ذاتی یا خاندانی امور، فوجداری جرائم یا بعض اوقات کالعدم تنظیموں کی سرگرمیاں جیسے عوامل شامل ہو سکتے ہیں۔ اس واقعے کے وقت متعلقہ علاقے میں سیکیورٹی فورسز کی موجودگی کا کوئی وجود ہی نہیں تھا، جو اس جھوٹے دعوے کے کھوکھلے پن کو مزید واضح کرتا ہے۔
بین الاقوامی اداروں کی توجہ حاصل کرنے کا ہتھکنڈہ: یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ایسے معاملات میں جان بوجھ کر بین الاقوامی تنظیموں اور اداروں کو ٹیگ کیا جاتا ہے تاکہ بلاوجہ کی توجہ اور شور مچایا جا سکے، حالانکہ اس حوالے سے نہ تو کوئی عدالتی تصدیق شدہ حقائق پیش کیے جاتے ہیں اور نہ ہی کسی آزادانہ تحقیقاتی رپورٹ کا سہارا لیا جاتا ہے۔
بلوچستان کا حقیقی منظر نامہ اور کالعدم تنظیمیں: ماہرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں ایک خاص سوچ کے تحت ایسے غیر مصدقہ واقعات کو بار بار اچھالا جاتا ہے جبکہ صوبے میں کالعدم تنظیموں کی دہشت گردانہ سرگرمیوں، جببر بھتہ اور نوجوانوں کی فکری گمراہی پر مکمل خاموشی اختیار کی جاتی ہے، جس سے اصل صورتحال بری طرح مسخ ہوتی ہے۔
قانون کی حکمرانی اور درست لائحہ عمل: حکام کا اصرار ہے کہ گمشدگی یا کسی بھی قانونی معاملے کو حل کرنے کا واحد درست راستہ متعلقہ قانونی ذرائع، پولیس انویسٹی گیشن اور عدالتیں ہیں، نہ کہ سوشل میڈیا کی مہمات۔ حقائق تک پہنچنے اور انصاف کی فراہمی کے لیے قانون کی حکمرانی اور ڈیو پروسیس (Due Process) ہی سب سے معتبر اور واحد راستہ ہے۔



